دیا کہ اس نے سلطنت انگریزی میں ہم کو پیدا کیا۔ احسان کی قدر کرنا ہماری سرشت میں ہے محسن کے احسان کی شکر گزاری کے اصول سے نا واقفیت جاہم ہمارے اس  قسم کے بیانات اور تھریروں کو خوشامد کر سکتے ہی نہیں۔یہ قوت ہی ہم میں نہیں ہے۔ہاں احسان کی قدر کرنا ہماری سرشت میں ہے اور محسن کشی اور غداری کا ناپاک مادہ اس نے اپنے فضل سے ہم میں نہیں رکھا۔ہم گورنمنٹ انگلشیہ کے احسانات کی قدر کرتے ہیں اور اس کو خدا کا فضل سمجھتے ہیںکہ اس نے ایک عادل گورنمنٹ کو سکھوں کے پر جفا زمانہ سے نجات دلانے کے لئے ہم پر حکومت کرنے کو کئی ہزار کوس سے بھیج دیا۔اگر اس سلطنت کا وجود نہ ہوتا ،تو میں سچ کہتا ہوں کہ ہم اس قسم کے اعتراضوں کی بابت ذرا سوچ بھی نہیں سکتے،چہ جائیکہ ہم ان کا جواب دے سکتے۔ اب ہم ان اعتراضوں کا جواب بڑی آذادی سے دے سکتے ہیں۔پھر اگر ہم اللہ تعالیٰ کے اس فضل کی قدر نہ کریںتو یقیناً سمجھو کہ بڑے نا قدر شناس اور ناشکر گزار ہوں گے۔ہم کو غور اور فکر کا موقع ملا،دعاوں کا موقع ملا اور اس طرح پر خدا تعالیٰ نے اپنے فضل کے ابواب ہم پر کھولے؛اگرچہ مبدء فیض وہی ہے،لیکن انسان اپنے میں ایک شے قابل بناتا ہے۔اس پر بلحاظ اس کی استعداد اور ظرف کے فیض ملتا ہے۔یہ خوشی کی بات ہے کہ اس تقریب کی وجہ سے ہندوستان اور پنجاب کے رہنے والے جوہر قابل بن رہے ہیںاور ان کی علمی طاقتیں بھی ترقی کر رہی ہیں۔ اس زمانہ کا ہتھیار قلم ہے مختصر یہ کہ یہ مقام دارالحرب ہے پادریوں کے مقابلہ میں۔اس لئے ہم کو چاہیے کہ ہر گز بے کار نہ بیٹھیں۔مگر یاد  رکھو کہ ہماری حرب ان کے ہمرنگ ہو۔جس قسم کے ہتھیار لے کر میدان میں وہ آئے ہیں،اسی طرز کے ہتھیار لے کر ہم کو نکلنا چاہیے اور وہ ہتھیار ہے قلم۔یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس عاجز کا نام سلطان القلم اور میرے قلم کو ذوالفقار علی فرمایا۔اس میں یہی سر ہے کہ زمانہ جنگ وجدل کا نہیںہے،بلکہ قلم کا زمانہ ہے۔ فتح کے لئے تقوی کی ضرورت ہے پھر جب یہ بات ہے تو یاد رکھو کہ حقائق اور معارف کے دروازوں کے کھلنے کے لئے  ضرورت ہے تقویٰ کی،اس لئے تقویٰ اختیار کرو،کیونکہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ان اللہ مع الذین اتقوا والذین ھم محسنون(النحل:۱۲۹)اور میں گن نہیں سکتا کہ یہ الہام مجھے کتنی بار ہوا ہے۔بہت ہی کثرت سے ہوا ہے۔ اگر ہم نری باتیں ہی باتیں کرتے ہیں،تو یاد رکھو کہ کچھ فائدہ نہیںہے ۔فتح کے لئے ضرورت ہے تقویٰ کی۔فتح