چاہتے ہو تو متقی بنو۔ اشاعت اسلام کے لئے مالی قربانیوں کی ضرورت ہے میں ہندوؤں اور عیسایوں میں دیکھتا ہوں کہ عورتیں  بھی بہت بڑی جائیدادیں اور روپیہ اس کام کے لئے وصیت کر جاتے ہیں۔آجکل کے مسلمانوں میں اس کی نظیر نہیں ملتی۔ ہمارے لئے جو بڑی سے بڑی مشکل ہے وہ اشاعت کے لئے مالی مداد کی ضرورت ہے۔یہ تو تم یاد رکھو کہ آخر خدا تعالیٰ نے یہ ارادہ فرمایا ہے کہ خود اپنے ہاتھ سے اس نے اس سلسلہ کو قائم کیا ہے۔وہ خود ہی اس کا حامی وناصر ہے۔لیکن وہ چاہتا ہے کہ اپنے بندوں کو ثواب کا مستحق بنا دے،اس لئے نبیوں کو مالی امداد کی ضرورت پیش کرنی پڑتی ہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے مدد مانگی۔اسی طرز پر جو منہاج نبوت کی طرز ہے۔ہم بھی اپنے دوستوں کو سلسلہ کی ضروریات سے اطلاع دیا کرتے ہیں،مگر میں پھر یہی کہوں گا کہ اگر ہم کچھ روپیہ بھی اشاعت کے لئے جمع کر لیں،تو یہ توظاہر بات ہے کہ اس قدر نہیں کر سکتے،جس قدر پادریوں کے پاس ہے اور اگر اتنا بھی کر لیںتو بھی میرا ایمان یہی ہے کہ فتح اسی کو ملتی ہے،جس سے خدا خوش ہو۔ اخلاق واعمال میں ترقی کریں اس لئے ضروری امر یہ ہے کہ ہم اپنے اخلاق واعمال میں ترقی کریں۔اور تقویٰ اختیار کریں تاکہ خداتعالیٰ کی نصرت اور محبت کا فیض ہمیں ملے۔پھر خدا کی مدد کو لے کر ہمارا فرض ہے اور ہر ایک ہم سے جو کچھ کر سکتا ہے،اس کو لازم ہے کہ ان حملوں کے جواب دینے میں کوئی کوتاہی نہ کریں۔ہاں جواب دیتے وقت نیت یہی ہو کہ خدا تعالیٰ کا جلال ظاہر ہو۔ ؎۱  جنوری ۱۸۹۸؁ء مرکز میں آنے کی تلقین فرمایا:لوگ میرے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر یہ تو کہہ جاتے ہیں کہ دین کو دنیا پر ترجیح دوں گا،لیکن یہاں سے جاکر اس بات کو  بھول جاتے ہیں وہ کیا فائدہ اٹھا سکتے ہیںاگر وہ یہاں نہ آویں گے؟دنیا نے ان کو پکڑ رکھا ہے۔اگر دین کو دنیا پر ترجیح ہوتی،تو وہ دنیا سے فرصت پاکر یہاں آتے۔ ؎۲  یکم فروری ۱۸۹۸؁ء ’’آج تیسرا روز ہے۔الہام ہو کہ یوم تاتیک الغاشیۃ یوم تنجو کل نفس بما کسبت۔یعنی ایک خوفناک گزی ڈالنے والا۔انسان کو چاروں طرف سے گھیرنے والا وقت آنے والا ہے۔اس وقت ہر ایک