کے مدارج عالیہ اور مراتب محبت کا اظہار ہے ۔اور آگے پیغمبر خداؐکا ابراء کیا کہ دیکھو دن اور رات جو بنائے ہیں۔ان میں کس قدر وقفہ ایک دوسرے میں ڈال دیا ہے۔ضحی کا وقت بھی دیکھو اور تاریکی کا وقت بھی خیال کرو۔ماودعک ربک ۔خدا تعالی نے تجھے رخصت نہیں کر دیا۔اس نے تجھ سے کینہ نہیں کیا بلکہ ہمارا یہ ایک قانون ہے۔جیسے رات اور دن کو بنایا ہے اسی طرح انبیاء علیہم السلام کے ساتھ بھی ایک قانون ہے کہ بعض وقت وحی کو بند ر دیا جاتا ہے تا کہ ان میں دعاوں کے لیے زیادہ جوش پیدا ہو ۔اور ضحی اور لیل کو اس لیے بطور شاہد بیان فرمایا ۔تاآپؐ کی امید وسیع ہواور تسلیاور اطمینان پیدا ہو۔مختصر یہ کہ اللہ تعالی نے ان قسموں کے بیان کرنے سے اصل مدعایہ رکھا کہ تابد یہات کے ذریعہ نظریات کو سمجھائے اب سوچ کر دیکھو کہ یہ کیسا پر حکمت مسئلہ تھا،مگر ان بذبختوںنے اس پر بھی اعتراض کیا،
چشم بداندیش کہ بر کندہ باد عیب نمایدہنرشدرنظر
ان قسموں میں ایسا فلسفہ بھرا ہوا ہے کہ حکمت کے ابواب کھلتے ہیں۔
اس زمانہ کا جہاد غرض یہ حرب ہمارا کام ہے جس کی آج ضرورت ہے۔اس سے علوم کے دروازے بھی کھلتے ہیںاور مخالف بھی حجت اور بینہ سے ہلاک ہو
جاتے ہیں۔اور یہ خدا کا فضل ہے کہ پنجاب کے لوگ جن معارف اور حقائق سے آگاہ ہو تے جاتے ہیں۔بلاد شام اور دیگر ممالک اسلامیہ میں ان کے نام ونشان تک نہیں ہے۔اس لئے کہ ہم پر تو یہ مصیبت آچکی ہے۔ہر طرف سے حملہ پر حملہ ہو رہا ہے۔اس لئے ہم کو قوت متکفرہ سے کام لینا پڑتا ہے اور دعاوں کے ذریعہ خدا تعالیٰ کے حضور ان مشکلات کو پیش کرنا پڑتا ہے،جسکا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ محض اپنے فضل وکرم سے ہماری دستگیری فرماتا ہے اور اپنی کتاب کے حقائق اور معارف سے اطلاع دیتا ہے۔حکامء کہتے ہیں کہ جس قوت کو چالیس دن استعمال نہ کیا جائے،وہ بے کار ہو جاتی ہے۔ہمارے ایک ماموں صاحب تھے،وہ پاگل ہو گئے۔ان کی فصدلی گئی اور ان کو تاکید کی گئی تھی کہ ہاتھ نہ ہلائیں۔انہوں نے چند مہینے تک ہاتھ نہ ہلایا۔نتیجہ یہ ہوا کہ ہاتھ لکڑی کی طرح ہو گیا ۔غرض یہ ہے کہ جس عضو سے کام نہ لیا جائے،وہ بے کار ہو جاتا ہے۔
ہندووں میں جوگی اور ایسا ہی راہب وغیرہ جو عورتوں کے قابل نہیں رہتے۔اس کے دو ہی سبب ہوتے ہیں۔یا تو بد معاشیوں کی کثرت کی وجہ سے یا انقطاع کلی کے بعد اور اس امر کی ہزارو مثالیں موجود ہیں کہ جن عضا کو بے کار چھوڑا گیا۔وہ آخر بالکل نکمے ہو گئے۔
اس وقت ہم پر قلم کی تلواریں چلائیں جاتیں ہیں۔اور اعتراضوں کے تیروں کی بوچھاڑ ہو رہی ہے۔ہمارا فرض ہے کہ اپنی قوتوں کو بے کار نہ کریںاور خدا کے پاک دین اور اس کے برگزیدہ نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی نبوت کے اثبات کے لئے قلموں کے نیزوں کو تیز کریں۔خصوصاً ایسی حالت میں کہ اللہ تعالیٰ نے سب سے بڑھ کر ہم کو یہ موقع