انکار تک پہنچ جاتا ہے۔اور نبوت کے لئے ولایت بطور میخ کے ہوتی ہے۔ولی کے انکار سے رفتہ رفتہ ایمان سلب ایمان ہو جاتا ہے۔
اس وقت دیکھو کہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو تیرہ سو برس سے زائد عرصہ گزر گیا۔اگر خدا تعالیٰ اس وقت تک بالکل خاموش رہتا اور اپنی تجلی نہ فرماتا تو اسلام ایک قصہ اور کہانی سے بڑھ کر کوئی وقعت نہ رکھتا اور اس کو دوسرے مذاہب پر کوئی خصوصیت یا فضیلت نہ ہوتی۔جیسے ہندو اپنے بزرگوں سے منسوب خوارق کو پرانوں اور شاستروں میں لکھا ہوا بیان کرتے ہیں اور دکھا کچھ نہیں سکتے،اسی طرح پر اسلام کے اعجازی نشانوں کا ذکر مسلمان انہی کتابوں ہی میں بتاتے اور دکھا کچھ نہیں سکتے،تو دوسرے مذاہب پر اس کو کیا فضیلت حاصل رہتی اور انسان کی فطرت اس قسم کے واقع ہوتی ہے کہ اگر اسے دوسرے پر کوئی فضیلت نظر نہ آوے،تو اس سے بے رغبتی اور بے دلی ظاہر کرتا ہے۔اس طرح پر گویا اسلام سے ایک قسم کا ضعف ایمان پیدا ہوتا ہے،کیونکہ بدوں فضیلت کے ایمان قوی رہ ہی نہیں سکتا۔اس لئے نبوت کی زراعت کے واسطے ولایت ایک باڑ لگا دی گئی ہے۔پس غور کر کے دکھو کہ قسم پر اعتراض کرنے والوں کا جواب کیسا صاف اور لطیف ہے۔
فترت وحی کی حکمت اس مضمون کو دیکھ کر انسان کس قدر انشراح کے ساتھ قبول کر سکتا ہے کہ قرآن کریم کس قدر عالی مضامین کو کیسے اندازاور چرز سے
بیان کرتا ہے۔پھر قرآن شریف میں ایک مقام پر رات کی قسم کھائی ہے۔کہتے ہیں کہ یہ اس وقت کی قسم ہے ۔جب وحی کا سلسلہ بند تھا۔یاد رکھنا چاہیے کہ یہ ایک مقام تھا۔جو ان لوگوں کے لئے جو سلسلہ وحی سے افاضہ حاصل کرتے ہیں،آتا ہے۔وحی کے سلسلے میں شوق اور محبت بڑھتی ہے،لیکن مفارقت میں بھی ایک کشش ہوتی ہے جو محبت کے مدارج عالیہ پر پہنچاتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس کو بھی ایک ذریعہ قرار دیا ہے۔کیونکہ اس سے قلب اور کرب میں ترقی ہوتی ہے۔اور روح میں ایک بے قراری اور اضطراب پیدا ہوتا ہے جس سے وہ دعاوں کی روح اس میں نفخ کی جاتی ہے کہ وہ آستانہ الوہیت پر یا رب !یارب!!کہہ کر اور بڑے جوش اور شوق اور جذبی کے ساتھ دوڑتی ہے۔جیسا کہ ایک بچہ جو تھوڑی دیر کے لئے ماں کی چھاتیوں سے الگ کیا گیا ہو ۔بے اختیار ماں کی طرف دوڑتا اور چلاتا ہے،اسی طرح پر بلکہ اس سے بھی بے حد اضطراب کے ساتھ روح اللہ کی طرف دورتی ہے اور اس دوڑ دھوپ اور قلق کرب میں وہ لذت اور سرور ہوتا ہے جس کو ہم بیان نہیں کر سکتے۔یاد رکھو!روح میں جس قدر اضطراب اور بے قراری خدا تعالیٰ کے لئے ہو گی۔اسی قدر دعوں کی توفیق ملے گی اور ان میں قبولیت کا نفخ ہو گا۔غرض یہ ایک زمانہ ماموروں اور مرسلوں اور ان لوگوں پر جن کے ساتھ مکالمات الہٰیہ کا ایک تعلق ہوتا ہے،آتا ہے اور اس سے غرض اللہ تعالیٰ کی یہ ہوتی ہے کہ تا ان کو محبت کی چاشنی اور قبولیت دعا کے ذوق سے حصہ دے اور ان کو اعلیٰ مدارج پر پہنچا دے تو یہاں جو ضحیٰ اور لیل کی قسم کھائی،اس میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم