کھڑکی کھل گئی اور شعاعیں اندر داخل ہو گئیں ۔
یہ جو فرمایا کہ یہ کتاب متقین کی ہے ہدایت ہے،یعنی ھُدًی الِّلْمُتَّقِیْنَ تو اتقا جو افتعال کے باب سے ہے اور یہ باب تکلف کے لئے آتا ہے،یعنی اس میں اشار ہے کہ جس قدر ہم یہاں تقویٰ چاہتے ہیں وہ تکلف سے خالی نہیں،جس کی حفاظت کے لئے اس کتاب میں ہدایت ہیں۔گویا متقی کو نیکی کرنے میں تکلیف سے کام لینا پڑتا ہے۔
عبد صالح
جب یہ گذر جاتا ہے تو سالک عبد صالح ہو جاتا ہے۔گویا تکلیف کا رنگ دور ہوا ۔اور صالح نے طبعاً وفطرتاً نیکی شروع کی۔وہ ایک قسم کے دارالامان میں ہے،جس کو کوئی خطرہ نہیں ۔اب کل جنگ اپنے نفسانی جذبات کے بر خلاف ختم ہو چکے ہیں اور وہ امن میں آگیا اور ہر قسم کے خطرات سے پاک ہو گیا ۔اسی امر کی طرف ہمارے ہادی کامل نے اشارہ کیا ہے ۔فرمایا کہ ہر ایک کے ساتھ شیطان ہوتا ہے ،لیکن میرا شیطان مسلم ہو گیا ہے۔ سو متقی کو ہمیشہ شیطان کے مقابل جنگ ہے ،لیکن جب وہ صالح ہو جاتا ہے، تو کل جنگیں بھی ختم ہو جاتیں ہیں ۔مثلاً ایک ریا ہی ہے جس سے اسے آٹھوں پہر جنگ ہے۔ متقی ایک ایسے میدان میں ہے، جہاں ہر طرف لڑائی ہے ۔اللہ کے فضل کا ہاتھ اس کے ساتھ ہو، تو اسے فتح ہو۔ جیسے ریا جس کی چال ایک چیونٹی کی طرح ہے۔ بعض وقت انسان بے سمجھے لیکن موقعہ پر دل میں پیدا ہونے کا موقع دے دیتا ہے ۔مثلاً ایک کا چاقو گم ہو جاوے اور وہ دوسرے سے دریافت کرے تو اس موقعہ پر ایک متقی کا جنگ شیطان سے شروع ہو جاتا ہے، جو اسے سکھاتا ہے کہ اس طرح دریافت کرنا ایک قسم کی بت عزتی ہے جس سے اس کے ا فروختہ ہونے کا احتمال ہوتا ہے اور ممکن ہے کہ آپس میں لڑائی بھی ہو جاوے۔ اس موقع پر ایک متقی کو اپنے نفس کی بد خواہش سے جنگ ہے ۔اگر اس شخص میں محض للہ دیانت موجودہو تو غصہ کرنے کی اس کو ضرورت ہی کیا ہے، کیونکہ دیانت جس قدر مخفی رکھی جاوے۔ اسی قدر بہتر ہے۔ مثلاً ایک جوہری کا راستہ میں چند چور مل جاویں اور چور آپس میں اس کے متعلق مشورہ کریں۔ بعض اسے دولت مند بتلاویں اور بعض کہیں وہ کنگال ہے ۔اب مقابلتاً یہ جوہری انہیں کو پسند کرے گا جو اسے کنگال ظاہر کریں گے۔
اعمال سے اخفاء اچھا ہے
اسی طرح یہ دنیا کیا ہے۔ ایک قسم کی دارالبتلا ہے ۔وہی اچھا ہے ،جو ہر ایک امر خفیہ رکھے اور ریا سے بچے۔ وہ لوگ جن
کے اعمال للہی ہوتے ہیں وہ کسی پر اپنے اعمال ظاہر نہیں ہونے دیتے یہی لوگ متقی ہیں ۔
میں نے تذکرۃ الاولیا میں دیکھا ہے کہ ایک مجمع میں ایک بزرگ نے سوال کیا کہ اس کو کچھ روپیہ کی ضرورت ہے۔ کوئی اس کی مدد کرے ۔ایک نے صالح سمجھ کر ایک ہزار روپیہ دیا۔ انھوں نے روپیہ لے کر اس کی سخاوت اور فیاضی کی تعریف کی۔اس بات وہ رنجیدہ ہوا کہ جب یہاں ہی تعریف ہو گئی تو شائد ثواب آخرت سے محرومیت ہو۔ تھوڑی دیر کے بعد وہ آیا اور کہا کہ وہ روپیہ اس کی والدہ کا تھا جو دینا نہیں چاہتی ؛چنانچہ وہ روپیہ واپس دیا گیا۔ جس پر ہر ایک