ہے اور اپنی ربوبیت اور رحمانیت کے فیض سے سب کو فیض پہنچا رہا ہے۔پھر وہ کسی کی نیکیوں کو کیوں ضائع کرے گا؟اس کی شان تو یہ ہے۔من یعمل مثقال ذرۃ خیراً یرہ(الزلزال:۸)جو ذرہ بھی نیکی کرے اس کا بھی اجر دیتا ہے اور جو ذرہ بدی کرے گا۔اس کی پاداش بھی ملے گی۔یہ ہے قرض کا اصل مفہوم جو اس آیت سے پایا جاتا ہے،چونکہ اصل مفہوم قرض کا اس سے پایا جاتا ہے۔اس لئے یہی کہہ دیا من ذالذی یقرض اللہ قرضاً حسناً(البقرہ:۲۴۶)اور اس کی تفسیر اس آیت میں موجود ہے من یعمل مثقال ذرۃ خیراً یرہ(الزلزال:۸)۔
عیسائیوں پر افتا دکی وجہ جاہل عیسائی جنہوں نے ایک عاجز اور ناتوان انسان کو خدا بنا لیا ہے اور اپنی بد کاریوں اور گناہوں کی گٹھڑی اس کے سر پر
رکھ دی ہے اور اسے ملعون تسلیم کیا ہے۔باوجود ان کے پاس *** کے سوا کچھ بھی نہیں۔دوسروں پر اعتراض کرتے ہیں۔چونکہ خدا تعالیٰ کی پاک شریعت کو کفارہ کی بنا پر رد کر چکے ہیں۔اعمال صالحہ میں جو ایک لذت اور سرور ہوتا ہے،وہ انہیں حاصل نہیں رہا اور خدا تعالیٰ کے سارے راستبازوں کو بٹمار اور ڈاکو قرار دینے کی وجہ سے ان پر وہ *** پڑی ہے۔اس لئے یہ بات کبھی بھی نہیں بھولنی چاہیے کہ خدا تعالیٰ کے راستبازوں کا نکار اور تکذیب ایک ایسی شے ہے جو انسان کو ہلاک کر دیتی ہے اور اس کی روحانی طاقتوں اور قوتوں کے لئے زہر قاتل کا کام کرتی ہے۔جو صادقوں کی نسبت سوء ظن کرتا ہے اور اس کی بے ادبی کرتا ہے وہ حقائق اور معارف سے بے نصیب کر دیا جاتا ہے۔یہ *** عیسائیوں پر پڑی ہے کہ انہوں نے سارے راستبوزوں کو خطا کار ٹھہرایا۔
غرض اس آیت میں یہ لطیفہ ہے کہ بارشوں کا اپنے طور پر ایک نظام ہے۔ لوگ جانتے ہیں کہ اب بارش کے دن قریب ہیں۔مثلاً یہ جانتے ہیں کہ پوہ اور ماگھ کے دنوں مین بارش ہوتی ہے۔اور ساون اور بادھوں کے دنوں میں ہوتی ہے۔پھر ایک یہ راض ہے کہ بارش بے ہودہ کبھی نہیں ہوتی۔درحقیقت وہی دن بارش کے لئے مفید ہوتے ہیں۔اسی طرح پر روحانی بارشوں کا سلسلہ چلتا ہے۔یہ ایک نظری بحث ہے۔اس لئے خدا تعالیٰ نے موٹی موٹی باتوں کو بطور شواہد کے پیش کیا ہے اور قسم کا لفظ شاہد کے قائم مقام بیان فرمایا ۔اس لفظ کو اسی طرح بیان کیا ہے؛جس طرح پر قرض کے لفظ کو جسے میں ابھی بیان کر چکا ہوں۔
محدثین اور مجددین کا سلسلہ اب ایک بات اور قابل غور ہے کہ ایک بارش تخمریزی کے لئے ہوتی ہے اور پھر ایک بارش اس تخم کے نشوونما اور سر
سبزی کے لئے ہوتی ہے۔اسی طرح نبوت کی بارش تخمریزی کے لئے ہوتی ہے اور محدثین اور مجددین کی بارش جو انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحفظون(الحجر:۱۰)کے ضمن میں داخل ہیں۔اس تکم کے بار ور کرنے اور نشوونما دینے کے لئے میں نے بار ہا اس امر کا ذکر کیا ہے کہ نبوت الوہیت کے لئے بطور میخ کے ہوتی ہے۔جو شخص نبوت کا نکا ر کرتا ہے،رفتہ رفتہ وہ الوہیت کے