کی تاریخ پڑھو تو معلوم ہو جاوے گا کہ دنیا کی کیا حالت تھی۔خدا تعالیٰ کی پرستش دنیا سے اٹھ گئی تھی اور توحید کا نقش پامٹ ہو چکا تھا۔باطل پرستی اور معبود باطلہ کی پرستش نے اللہ جلہ شانہ کی جگہ لے رکھی تھی۔دنیا پرجہالت اور ظلمت کاایک خوفناک پردہ چھایا ہواتھا۔دنیا کے تخت پر کوئی ملک،کوئی قطعہ،کوئی سر زمین ایسی نہ رہ گئی تھی جہاں خدائے واحد،ہاں ھیی القیوم خدا کی پرستش ہوتی ہو۔عیسائیوں کی مردہ پرست قوم تثلیث کے چکر میں پھنسی ہوئی تھی اور ودیدوں میں توحید کا بیجا دعویٰ کرنے والے ہندوستان کے رہنے والے ۳۳ کروڑ دیو تاوں کے پجاری تھے۔غرض خدا تعالیٰ نے جو نقشہ اس وقت کے حالت کا ان الفاظ میں کھینچا ہے کہ ظھر الفساد فی البر والبحر(الروم:۴۲)یہ بالکل سچا ہے اور اس سے بہتر انسانی زبان قلم اس حالت کو بیان نہیں کر سکتی۔اب دیکھو جس طرح خدا تعالیٰ کا قانون عام ہے کہ عین امساک بارش کے وقت آخر اس کا فضل ہوتا اور باران رحمت برس کر شادابی بضشتا ہے،اسی طرح ایسے وقت میں ضروری تھا کہ خدا تعالیٰ کا کلام آسمان سے نازل ہوتا ۔گویا اس جسمانی بارش کے نظام کو دکھا کر روحانی بارش کی طرف رہنمائی کی ہے۔اب اس سے کون انکار کرے گا کہ بارش ہمارے مقاصد کے موافق ہوئی۔اس سے مطلب وہ ہے کہ جیسے وہ نظام رکھا ہے اسی طرح بارشوں کے لئے وقت رکھے ہیں۔اب دیکھ لو کہ کیا یہ بارش روحانی کا وقت نہ تھا؟ کس قدر جھگڑے تم لوگوں میں بپا تھے ۔اعمال گندے اور ایمان بھی گندے تھے۔اور دنیا ہلاکت کے گڑھے میں گرنے والی تھی،پھر کیونکر وہ اپنے فضل کا مینہ نہ برساتا ۔جس نے جسم فانی کی حفاظت کے لئے ایک خاص نظام رکھا ہے،پھر روحانی نظام کو کیونکر نہ چھوڑتا ۔اس لئے بارش کے نظام کو بطور شاہد پیش کر کے قسم کے رنگ میں استعمال کیا،کیونکہ امر نبوت ایک روحانی اور نظری مار تھا اور کفار عرب اس نظام کو نہ سمجھ سکتے تھے،اس لئے وہ پہلا نظام پیش کر کے ان کو سمجھا دیا۔غرض یہ ایک سر ہے جس کو جاہلوں نے سمجھا نہیں اور اپنی نادانی اور عداوت حق کی بنا پر اعتراض کر دیا ہے۔اصل مفہوم کو جو اللہ تعالیٰ نے اس میں مقصود رکھا تھا چھوڑ دیا ہے۔
اللہ کو قرض دینے کا مفہوم اسی طرح پر ایک نادان کہتا ہے کہ من ذالذی یقرض اللہ قرضاً حسناً(البقرہ:۲۴۶)کون شخص ہے جو اللہ کو قرض
دے۔اس کا مفہوم یہ ہے کہ گویا معاذ اللہ خدا بھوکا ہے ۔احمق نہیں سمجھتا کہ اس سے بھوک ہونا کہاں سے نکلتا ہے؟یہاں قرض کا مفہوم تو اصل یہ ہے کہ ایسی چیزیں جن کے واپس کرنے کا وعدہ ہوتا ہے۔اس کے ساتھ افلاس اپنے سے لگا لیتاہے۔یہاں قرض سے مرادہے کہ کون ہے جو خدا تعالیٰ کو اعمال صالحہ دے۔اللہ تعالیٰ اس کی جزا اسے کئی گناہ کر کے دیتا ہے۔یہ خدا کی شان کے لائق ہے جو سلسلہ عبودیت کاربوبیت کے ساتھ ہے۔اس پر غور کرنے سے اس کا یہ مفہوم صاف سمجھ میں آجاتا ہے۔کیونکہ خدا تعالیٰ بدوں کسی کی نیکی،دعا اور التجا اور بدوں تفرقہ کا فر مومن کے ہر ایک کی پرورش فرما رہا