کے قائل ہو کر علوم ہی سے دستبردار ہو جاتے ہیں،مگر قرآن شریف نے دونوں تعلیمیں دی ہیں اور کامل طور پر دی ہیں۔قرآن شریف علوم حقہ سے اس لئے واقف کرنا چاہتا ہے اور اس لئے انسان کو اس طرف متوجہ کرتا ہے کہ اس سے خشیت الہی پیدا ہوجاتی ہے۔اور انسان کو قضاء قدر کے نیچے رہنے کی اس لئے تعلیم دیتا ہے کہ اس میں اللہ تعالیٰ کی ذات پر توکل اور بھروسہ کی صفت پیدا ہو اور وہ راضی برضا رہنے کی حقیقت سے آشنا ہو کر سچی سکینت اور اطمینان جو نجات کا اصل مقصد اور منشا ہے،حاصل کرے۔ ابھی جو مثال میں نے قرآن شریف سے قسم کے متعلق دی ہے کہ والسماء ذات الرجع یعنی قسم ہے آسمان کی جس میں اللہ تعالیٰ نے رجع کو رکھا ہے۔سما کالفظ فضا اور جو اور بارش اور بلندی کے معنوں میں بولو جاتا ہے۔رجع بار بار وقت پر آنے والی چیز کو کہتے ہیں۔بارش برسات میں بار بار آتی ہے،اس لئے اس کا نا م بھی رجع ہے۔اسی طرح پر آسمانی بارش بھی اپنے وقتوں پر آتی ہے۔والارض ذات الصدع(الطارق:۱۳)اور قسم ہے زمین کی کہ وہ ان وقتوں میں پھوٹ نکلتی ہے اور سبزہ نکالتی ہے۔ بارش کی جڑ زمین ہے۔زمین کا پانی جو بخارات بن کر اوپر اڑ جاتا ہے وہ کرہ مہریر پر پہنچ کر بارش بن کر واپس آتا ہے اور اس صورت میں چونکہ وہ آسمان سے آتا ہے،اس لئے آسمانی کہلاتا ہے۔پھر بارش کی ضرورت کے لئے ایک اور وقت خاص ہے۔ج مزار عین کو ضرورت ہوتی ہے ۔اگر بیائی کے بعد پڑے،تو کچھ بھی نہ رہے اور پھر بعض اوقات نشونما کے لئے ضرورت ہوتی ہے۔غرض بارش اور مینہ کی ضرورت اور اس کے مفاد اور اس کے آسمان سے آنے کا نظارہ بالکل بد یہی ہے اور ایک ادنی درجہ کی عقل رکھنے والا گنوار دہقان بھی جانتا ہے۔علاوہ ازیں یہ بات ہی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ اگر آسمانی بارش نہ ہو،تو زمینی پانی بھی خشک ہونے لگتے ہیں؛چنانچہ امساک باراں کے دنوں میں بہت سے کنویں خشک ہو جاتے ہیں اور اکثروں میں پانی بہت ہی کم رہ جاتا ہے،لیکن جب آسمان سے بارش آتی ہے،تو زمینی پانیوں میں بھی ایک جوش اور تموج پیدا ہونے لگتا ہے۔میرا مطلب اس مقام پر اس مثال کے بیان کرنے سے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان قسموں کو ایک اور امر کے لئے بطور شاہد قرار دیا ہے،کیونکہ ان نظاروں سے تو ایک معمولی زمیندار بھی واقف ہے اورط جوا مر اس کے لئے ثابت کیا ہے وہ یہ ہے انہ لقول فصل وما ھو بالھزل(الطارق :۱۴،۱۵)بے شک یہ خدا کا کلام ہے اور قول فصل ہے۔اور وہ عین وقت پر ضرورت حقہ کے ساتھ باور حق وحکمت کے ساتھ آیا ہے،بے ہودہ طور پر نہیں آیا۔اب دیکھ لو کہ قرآن شریف جس وقت نازل ہوا ہے۔کیا اس وقت نظام روحانی یہ نہیں چاہتا تھا کہ خدا تعالیٰ کا کلام نازل ہو اور کوئی مرد آسمانی آوے،جو اس گمشدہ متاع کو واپس لاوے؟رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسل کے زمانے بعثت