اس سے یہی ہے کہ تاصحیفہ قدرت کے بدیہات کو شریعت کے اسراردقیقہ کے حلوانکشاف کے لیے بطورشاہد پیش کرے اور چونکہ اس مدّعا کو قسم سے ایک مناسب تھی اور وہ یہ کہ جیسا کہ ایک قسم کھانے والامثلاً خداتعالی کی قسم کھاتا ہے،تو اس کی غرض یہ ہوتی ہے کہ اللہ تعالی میرے اس واقعہ پر گواہ ہے۔اسی طرح اور ٹھیک اسی رنگ میںاللہ تعالی کے بعض ظاہر درظاہر افعال،نہاںدر نہاںاسراراور افعال پر بطور گواہ ہیں اس لیے اس نے قسم کے رنگ میں اپنے افعال بدیہہ کو اپنے افعال نظریہّ کے ثبوت میں جابجا قرآن شریف میں پیش کیا اور یہ کہنا سراسرنادانی اور جہالت ہے کہ اللہ تعالی نے غیر اللہ کی قسم کھائی،کیونکہ اللہ تعالی درحقیقت اپنے افعال کی قسم کھاتا ہے نہ کسی غیر کی ۔اور اس کے افعال اس کے غیر نہیں ہیں۔ مثلاً اس کا آسمان یا ستارہ کی قسم کھانا اس قصد سے نہیں ہے کہ وہ کسی غیر کی قسم ہے بلکہ اس کی منشاء یہ ہے کہ جو کچھ اس کے ہاتھوں کی صنعت اور حکمت آسمان اور ستاروں میں موجودہے،اس کی شہادت بعض اپنے افعال محقیہّ کے سمجھانے کے لیے پیش کرے۔ خداتعالی کی قسموں میں اسرارِمعرفت غرض اللہ تعالیٰ کی قسمیں اپنے اندر لا محدود اسرار معرفت کے رکھتی ہیں۔جن کو اہل  بصیرت ہی دیکھ سکتے ہیں۔پس خدا تعالیٰ قسم کے لباس میں اپنے قانون قدرت کے بد یہات کی شہادت اپنی شریعت کے بعض دقائق حل کرنے کے لئے پیش کرتا ہے۔کہ خدا تعالیٰ کی فعلی کتاب(قانون قدرت) اس کی قولی کتاب(قرآن شریف)پر شاہد ہو جاوے اور اس کے قول وفعل میں باہم مطابقت ہو کر طالب صادق کے لئے مزید معرفت اور سکینت اور یقین کا موجب ہو اور یہ طریق قرآن شریف میں عام ہے۔مثلاً خدا تعالیٰ بر ہموں اور الہام کے منکروں پر یوں اتمام حجت کرتا ہے۔  والسمآء ذات الرجع(الطارق:۱۲)قسم ہے ان بادلوں کی جن سے مینہ برستا ہے۔رجع بارش کو بھی کہتے ہیں۔بارش کا بھی ایک مستقل نظام ہے۔جیسے نظام شمسی ہے۔رات اور دن کا اورکسوف خسوف کا بجائے خود ایک نظام ہے۔مرض کا بھی ایک نظام ہوتا ہے۔طبے اس ناظام کے موافق کہہ سکتا ہے کہ فلاں دن بحران ہو گا۔غرض یہ نظام ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کا قانون قدرت اپنے ان ترتیب اور کامل نظام رکھتا ہے۔اور کوئی فعل اس کا ایسا نہیں جو نظام اور ترتیب سے باہر ہو۔ اللہ تعالیٰ جیسے یہ چاہتا ہے کہ لوگ اس سے ڈریں۔ویسے یہ بھی چاپتا ہے کہ لوگوں میں علوم کی روشنی پیدا ہو جاوے۔اور اس سے وہ معرفت کی منزلیں طے کر جاویں کیونکہ علوم حقہ سے واقفیت جہاں ایک طرف سچی خشیت پیدا کرتی ہے،وہاں دوسری طرف ان علوم سے خدا پرستی پیدا ہوتی ہے۔بعض بد قسمت ایسے بھی ہیں ۔جو علوم میںمنہمک ہو کر قضاء قدر سے دور جا پڑتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے وجود پر ہی شکوک پیدا کر بیٹھتے ہیں اور بعض ایسے ہیں جو قضاء قدر