جس پر ان کو اس وجہ سے اطلاع نہیں ملی کہ وہ حق کے ساتھ عداوت رکھتے ہیںاور قرآن شریف کو محض اس لیے پڑھتے ہیں کہ اس پر نکتہ چینی اور اعتراض کریں۔یادرکھو قرآن شریف کے دو حصّے ہیںبلکہ تین۔ایک تو وہ حصہ ہے جس کو ادنی درجہ کے لوگ بھی جو امّی ہوتے ہیںاور دوسراوہ حصہ ہے جو اوسط درجہ کے لوگوں پر کھلتا ہے۔اگرچہ وہ پورے طور پر امّی نہیںہوتے،لیکن بہت بڑی استعدادعلو م کی بھی نہیں رکھتے اور تیسراحصہ ان لوگوں کے لیے ہے جو اعلی درجہ کے علوم سے بہرہورہیں اور فلاسفر کہلاتے ہیں۔یہ قرآن ہی کا خاصّہ ہے کہ وہ تینوںقسم کے آدمیوں کو یکساں تعلیم دیتا ہے۔ایک ہی بات ہے جو امّی اور اوسط درجہ کے آدمی اور اعلی درجہ کے فلاسفر کو تعلیم دے جاتی ہے۔
یہ قرآن شریف ہی کا فخر ہے کہ ہر طبقہ اپنی استعداداوردرجہ کے موافق فیض پاتا ہے۔الغرض یہ جو قرآن شریف کی قسم پر اعتراض کیا جاتا ہے،اس کا جواب یہ ہے کہ قسم ایک ایسی شے ہے جس کو ایک شاہد کے منقود ہونے کی بجائے دوسرا شاہد قراردیا جاتا ہے۔قانوناً،شرعاً،عرفاًیہ عام مسلم بات ہے کہ جب فواہ مفقود ہو اور موجودہ نہ ہو،تو صرف قسم پر اکتفاکی جاتی ہے اور وہ قسم گواہی کے قائم مقام ہوتی ہے۔اسی طرح پر اللہ تعالی کی سنت قرآن کریم میں اس طرح پر جاری ہے کہ نظریات کو ثابت کرنے کے واسطے بدیہات کوبطورشاہد پیش کرتا ہے تاکہ نظری امورثابت ہوں۔
یہ یاد رکھنا چاہیے کہ قرآن شریف میں یہ طرز اللہ تعالی نے رکھا ہے کہ نظری امور کے اثبات کے لیے اموربد یہی کو بطور شاہد پیش کرتا ہے اور یہ پیش کرنا قسموں کے رنگ میں ہے۔اس بات کو بھی ہرگزبھولنا نہ چاہیے کہ اللہ جلّ شانہ کی قسموں کو انسانی قسموںپر قیاس کرنا قیاس مع الفارق ہے۔اللہ تعالی نے جو انسان کو غیر اللہ کی قسم کھانے سے منع کیا تو اس کا سبب یہ ہے کہ انسان جب قسم کھاتا ہے،تو اس کا مدّعا یہ ہوتا ہے کہ جس چیز کہ قسم کھاتی ہے اس کو ایک ایسا گواہ رئویت کا قائم مقام ٹھہراوے کہ جو اپنے ذاتی علم سے اس کے بیان کی تصدیق یا تکذیب کر سکتا ہے، کیونکہ اگر سوچ کر دیکھا جاوے،تو قسم کا اصل مفہوم جیسا کہ ہم نے ابھی بیان کیا تھا۔شہادت ہی ہوتا ہے۔جب انسان مومولی شاہدوں کے پیش کرنے سے عاجز آجاتا ہے تو پھر قسم کا محتاج ہوتاہے،تااس سے وہ فائدہ اٹھاوے،جو ایک شاہد رویٔت کی شہادت سے اٹھانا چاہتا ہے،لیکن ایسا تجویز کرنا یا اعتقادرکھنا کہ بجز خدا تعالی کے کوئی اور بھی حاضر ناظر ہے اور تصدیق یا تکذیب یا سزادہی یا کسی اور امر پر قادر ہے۔صریح کلمہ کفر ہے۔اس لیے اللہ تعالی نے اپنی تمام کتابوںمیں انسانوں کو یہی ہدایت فرمائی ہے کہ غیر اللہ کہ ہرگز قسم نہ کھاوے۔
اب اس بیان سے صاف معلوم ہوگیا کہ اللہ تعالی کا قسم کھانا کوئی اور رنگ اور شان رکھتا ہے اور غرض