بھی خریدی جائے،تواس پر بھی رنج ہوتا ہے۔یہاںتک کہ ایک سو ئی کے گم ہو جانے پر بھی افسوس ہوتا ہے ۔پھر یہ کیسا ایمانؔاور اسلاؔم ہے کہ اس خوفناک زمانہ میں کہ اسلام پرحملوں کی بوچھاڑ ہورہی ہے۔امن اور آرام کے ساتھ خواب راحت میں سو رہے ہیں۔کیا تم نہیں دیکھتے کہ ہفتہ وار اور ماہواری اخباروں اور رسالوں کے علاوہ ہر روزوہ کس قدر دوورقہ اشتہاراور چھوٹے چھوٹے رسالے تقسیم کرتے ہیں جن کی تعدادپچاّس پچاس ہزار اور بعض وقت لاکھوں تک ہوتی ہے؟اور کئی کئی مرتبہ ان کو شائع کرنے میں کروڑ ہاروپیہ پانی کی طرح بہادیا جاتاہے مسیحیت اسلام کے خلاف کیوں ہے؟ یہ خواب یاد رکھو کہ پادریوں کے ذہن اور تصورمیں ہندؔوکچھ چیز نہیں ہیں اور نہ دوسرے مذاہب وغیرہ کی ان کو چنداںپرواہے؛چنانچہ کبھی نہیں سنا ہو گا کہ جس قدر کتابیں اسلاؔم کی تردید میںیہ لوگ شائع کرتے ہیں،اسکے مقابلہ میںآدھی بھی ہندو مذہب کے خلاف لکھتے ہوں۔یہ لوگ دوسرے مذاہب سے چنداں غرض نہیں رکھتے ہیں،اس لیے کہ ان میں بجائے خودکوئی حقانیّت اور صداقت کی روح نہیں ہے۔وہ عیسویّت کی طرح خود مردہ مذاہب ہیں،لیکن اسلاؔم جو بھی مردہ ملّت بناناچاہتے ہیں۔چنانچہ میں نے ان کے اعراضوں کو ایک وقت شمار کیا تھا،ان کی تعداد تین ہزار تک پہنچ چکی ہے اور اب تو اس میں اور بھی اضافہ ہوا ہوگا۔ یادرکھو مفتری انسان وسوسہ میںڈالتا ہے۔چونکہ ان میںصدؔق،عفتؔ،راستبازی نہیں ہوتی ،اس لیے جوچاہتے ہیں کرتے ہیں۔امر تسری افغانوں کا پکا یقین ہے کہ یہ لوگ تارک الصلوۃ ہیںاور شراب پیتے ہیں۔جب دوسروںکے سامنے وہ اس قسم کے اعتراض کرتے ہیں،تو وہ سمجھتے ہیں کہ یہ بزرگ زادہ ہیں،کیا جھوٹ بولیں گے؟اس سے وہ وسوسہ میں پڑتے ہیں اور مان لیتے ہیں کہ ہاںسچ یہی ہے۔ اسی طرح یہ لوگ ریشہ دوانیاںکرتے ہیں۔غرض ایک تو پادری ہیں جو کھلے طور پر اسلامؔ کے خلاف کتابیں لکھتے اور شائع کرتے ہیں۔دوسرے انگریزی طرز تعلیم اور کتابوں میں بھی پوشیدہ طور پر زہریلا مادہ رکھا ہوا ہے۔فلسفی اپنے طرز پر اور مورخ اپنے رنگ میں واقعات کو بری صورت میں پیش کر کے اسلاؔم پر حملہ کرتے ہیں۔حاصل کلام یہ ہے کہ اس وقت دو ہی قسم کے حملے ہوتے ہیںایک پادریوں کے اور دوسرے فلسفیوں کے۔پس اس وقت اپنے اسلام کو ٹٹولنا چاہیے۔ قرآن کریم میں مخلوق کی قسم کھانے کی فلاسفی میں پھر اصل کی طرف رجوع کر کے کہتا ہوں کہ قرآن شریف کی قسموں پر جو اعتراض کیا جاتا ہے وہ بھی اسی قسم کا ہے۔بڑے غور وفکر کے بعد یہ راز ہم پر کھلا ہے کہ قرآن شریف کے جس جس مقام پر کو تہ اندیشوںنے اعراض کیے ہیں۔اسی مقام پر اعلی درجہ کی صداقتوںاور معارف کا ایک ذخیرہ موجودہ ہے۔