جواب لکھنے اور عیسائی مذہب کی تردیدمیں کتابیں لکھنے کا اختیار ہے۔ اسلا می غیرت کا تقاضا میں حلفاً کہتا ہوں کہ جب کوئی ایسی کتاب پر نظر پڑتی ہے تو دنیا اور مافیہا ایک مکھی کے کے برابر نظر آتی۔میں پوچھتا ہوں جس کو وقت پر جوش نہیں آتا ،کیا وہ مسلمان ٹھہر سکتا ہے۔کسی کے باپ کو برا بھلا کہا جائے،تو وہ مرنے مارنے کو تیار ہو جاتا ہے،لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو گالیاں دی جائیں، تو ان کی رگ رحمت میں جنبش بھی نہ آوے اور پروا بھی نہ کریں۔یہ کیا ایمان ہے؟پھر کس منہ سے مر کر خدا کے پاس جائیں گے۔اگر مسلمانوں کا نمونہ دیکھنا چاہو،تو صحابہ کرام کی جماعت کو دیکھو۔جنھوں نے اپنے جان ومال کے کسی قسم کے نقصان کی ہروانہیں کی۔اللہ اور اس کے رسول ؐکی رضا کو مقدّم کر لیا۔خداتعالی کی رضا پر راضی ہو جانا ہی ایک فعل تھا جو سارا قرآن شریف ان کی تعریف سے بھرا ہوا ہے اور رضی اللہ عنہم کا تمغہ ان کو مل گیا۔پس جب تک تم اپنے اندروہ امتیاز۔وہ جوش حمیت اسلام کے لیے محسوس نہ کرو۔ہرگز اپنے آپ کو مل نہ سمجھو۔ ہماری جماعت یادرکھیکہ ہم ہندوستان کو بلحاظ حکومت ہرگزدارالحرب قرار نہیں دیتے۔بلکہ اس امن اور برکات کی وجہ سے جو اپنے مذہب کے ارکان کی بجا آوری اور اس کی اشاعت کے لیے گورنمنٹ نے ہم کو دے رکھیّ ہے۔ہمارادل عطر کے شیشہ کی طرح وفاداری اور شکر گذاری کے جوش سے بھرا ہوا ہے،لیکن پادریوں کی وجہ سے ہم اس کو دارالحرب قرار دیتے ہیں۔پادریوں نے چھ کروڑ کے قریب کتابیں اسلاؔم کے خلاف شائع کی ہیں۔میرے نزدیک وہ لوگ نہیں ہیں جو ان حملوں کودیکھیں اور سنیں اور اپنے ہی ہم وغم میں مبتلارہیں۔اس وقت جو کچھ کسی ممکن ہو،وہ اسلام کی تائید کے لیے کرے اور اس قلمی جنگ میں اپنی وفاداری دکھائے،جبکہ خود عادل گورنمنٹ نے ہم کو منع نہیں کیا ہے کہ ہم اپنے مذہب کی تائید اور غیر قوموں کے اعتراضوں کی تردید میں کتابیں شائع کریں،بلکہ پریس،ڈاک خانے اور اشاعت کے دوسرے ذریعوں سے مدودی ہے،تو ایسے وقت میںخاموش رہنا سخت گناہ ہے۔ہاں ضرورت ہے اس امرکی کہ جو بات پیش کی جاوے،وہ معقول ہو۔اس کی غرض دل آزادی نہ ہو۔جو اسلام کے لیے سینہ بریاں اور چشم گریاں نہیں رکھتا،وہ یادرکھے کہ خداتعالی ایسے انسان کا ذمّہ دار نہیں ہوتا۔اس کو سوچنا چاہیے کہ جس قدر خیالات اپنی کامیابی کے آتے ہیںاور جتنی تدابیر اپنی دنیوی اغراض کے لیے کرتا ہے۔اسی سوزش اور جلن اور درددل کے ساتھ کبھی یہ خیال بھی آیا ہے کہ رسول اللہ صلی علیہ وسلم کی پاک ذات پر حملے ہو رہے ہیں،میں ان کے دفاع کی بھی سعی کروں؟اور اگر کچھ اور نہیں ہوسکتا تو کم از کم پر سوزدل کے ساتھ خداتعالی کے حضور دعا کروں؟اگر اس قسم کی جلن اور درددل میں ہو تو ممکن نہیں کہ سچّی محبت کے آثار ظاہر نہ ہوں۔اگر ٹوٹی ہانڈی