حکومت ہی کی یہ خوبی ہے کہ مقابل میںایک ڈاکٹراورپھر مشہورپادری،لیکن تحقیقات اور عدالت کی کاروائی میں کوئی سختی کا برتائونہیں کیا جاتا۔کیپٹن ڈگلس نیاس بات کی ذرا بھی پروا نہیں کی کہ پادری صاحب کی ذاتی وجاہت یا ان کے اپنے عہدہ اوردرجہ کا لحاظ کیا جاوے ؛چنانچہ انہوں نے لیماؔرچنڈصاحب سے جو پولیس گوردا سپوؔرکے اعلی افسر ہیں،یہی کہا کہ ہمارادل تسلّی نہیں پکڑتا۔ پھر عبدالحمید سے دریافت کیا گیا۔آخرکار انصاف کی رو سے ہم کو اس نے بری ٹھرایا۔پھریہ لوگ ہم کوار کان مذہبکی بجا آوری سے روکتے،بلکہ بہت سے برکات اپنے ساتھ لے کر آئے،جس کی وجہ سے ہم کو اپنے مذہب کی اشاعت کا خاطرخواہ موقع ملااور اس قسم کا امناور آرام نصیب ہواکہ پہلی حکومتوں میں اس کی نظر نہیں ملتی۔پھر یہ صریح ظلم اوراسلامی تعلیم اور اخلاق سے بعید ہے کہ ہم ان کے شکر گذارنہ ہوں۔ یادرکھو! انسان جو اپنے جیسے انسان کی نیکیوںکا شکر گذارنہیں ہوتا،وہ خداتعالی کا شکر گذار نہیں ہوسکتا؛ حالانکہ وہاںسے دیکھتا ہے۔تو غیب الغیب ہستی کے انعامات کا شکر گذارکیونکرہوگا،جس کو دیکھتا بھی نہیں،اس لیے محض حکومت کے لحاظ سے ہم اس کو دارالحرب نہیں کہتے۔ ہاں!ہمارے نزدیک ہندوستان دارالحرب ہے بلحاظ قلم کے۔پادری لوگوں نے اسلاؔم کے خلاف ایک خطرناک جنگ شروع کی ہوئی ہے۔اس میدان جنگ میںوہ نیزہ ہائے قلم لے کر نکلے ہیںنہ سنان وتفنگ لے کر۔اس لیے اس میدان میں ہم کو جو ہتھیارلے کر نکلنا چاہیے،وہ قلم اور صرف قلم ہے۔ہمارے نزدیک ہر ایک مسلمان کا فرض ہے کہ وہ اس جنگ میں شریک ہو جاوے۔اللہ اوراس کے برگزیدہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر وہ دل آزاد حملے کیے جاتے ہیں کہ ہمارا تو جگر پھٹ جاتا اور دل کانپ اٹھتا ہے ۔کیا امہاتؔالمومنین یادربارؔمصطفائی کے اسرار جیسی گندی کتاب دیکھ کر ہم آرام کر سکتے ہیں،جس کا نام ہی اس طرز پررکھا ہے۔جیسے ناپاک نادلوں کے نام ہوتے ہیں ۔تعجبّ کی بات ہے کہ دربارلندن ؔکے اسرار جیسی کتابیں تو گورنمنٹ کے اپنے علم میں بھی اس قابل ہوں کہ ان کی اشاعت بندکی جائے،مگر آٹھ کروڑ مسلمانوں کی دلآزادی کرنے والی کتاب کو نہ روکا جائے ۔ہم خود گورنمنٹ سے اس قسم کی درخوست کرنا ہرگز نہیں چاہتے بلکہ اس کو بہت ہی نامناسب خیال کرتے ہیں۔جیسا کہ ہم نے اپنے ممیوریل کے ذریعہ سے واضح کر دیا،لیکن یہ بات ہم نے محض اس بنا پر کہی ہے کہ بجائے خود گورنمنٹ کا اپنا فرض ہے کہ وہ ایسی تحریروں کا خیال رکھے۔بہر حال گورنمنٹ نے عام آزادی دے رکھی ہے کہ اگر عیسائی ایک کتاب اسلاؔم پر اعتراض کرنے کی غرض سے لکھتے ہیں،تو مسلمانوں کو آزادی کے ساتھ اس کا