ایک تاگے کو ہی دیکھو ،کیسا خوبصورت ہوتا ہے۔غرض ہر ایک دیسی چیز کو بالمقابل نکما کر دیا ہے،بلکہ میں نے تو سنا ہے کہ بعض رئیس دیسی چیزوں سے یہاں تک متنفر ہیں کہ ان کے کپڑے بھی پیرس سے دھل کر آتے ہیںاور پینے کا پانی بھی ولایت سے منگواتے ہیں۔
اس خریداری کا سر کیا ہے ۔انہوں نے ظاہری خوبصورتی اور چمک اور خوش نمائی رکھ دی ہے۔اس لئے لوگ ادھر جھک گئے ہیں۔جب یہ حالت ہے کہ دیانت دار اور بھی ہیں اور کفار کا بھی گروہ ہے۔لیکن کفار کی طرف رجوع ان کی نفاست اور چمک کی وجہ سے ہے۔یہی حال اخلاق اور کمال کا ہے۔پس جب تک ان کی دمک چمک یہاں تک نہ پہنچائی جائے۔نوع انسان پر اثر نہیں پڑ سکتا۔ جو لوگ خود کمزور ہوتے ہیں۔وہ دوسرے کمزوریوں کو جذب نہیں کر سکتے۔
قرآن کریم میں مخلوق کی قسم کھانے کی حقیقت
خدا تعالیٰ فرماتا ہے والعصر ان الانسان لفی خسر الا الذین اٰمنو و عملو الصلحٰت وتواصوا با لصبر(سورۃ العصر)
قسم ہے اس زمانہ کی یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے زمانہ کی ۔آجکل ہمارے زمانہ کے کوتاہ اندیش مخالف یہ اعتراض کرتے ہیں کہ قرآن شریف میں مخلوق کی قسم کیوں کھائی گئی ہے؛حالانکہ دوسروں کو منع کیا گیا ہے۔اور کہیں انجیر کی قسم ہے،کہیں دن اور رات کی اور کہیں زمین کی اور کہیں نفس کی؟اس قسم کے اعتراضوں کا بہت برا اثر پڑتا ہے۔ یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ تمام قرآن شریف میں یہ ایک عام سنت اور عادت الہی ہے کہ وہ بعض نظری امور کے اثبات و احقاق کے لئے کسی ایسے امور کا حوالہ دیتا ہے جو اپنے خواص کا عام طور پر بین اور کھلا کھلا اور بد یہی ثبوت رکھتے ہیں۔پس ان کی قسم کھانا ان کو بطور دلیل اور نثیر کے پیش کرنا ہوتا ہے۔
کیا ہندوستان دارالحرب ہے؟ ہم اس اعراض کاواضح جواب دینے سے پیشترایک ضروری امراور بیان کرنا چاہتے ہیں۔ہر ایک مسلمان
کو یاد رہے کہ ہم بلحاظ گورنمنٹ کے ہندوستان کو دارالحرب نہیںکہتے اور یہی ہمارا مذہب ہیـ؛اگرچہ اس مسئلہ میں علماء مخالفین نے ہم سخت اختلاف کیاہے اور اپنی طرف سے کوئی دقیقہ ہم کو تکلیف دہی کا انھوںنے باقی نہیںرکھا،مگر ہم ان عارضی تکالیف اور آنی ضرور سانیوںکے خوف سے حق کو کیونکہ چھوڑ سکتے ہیں۔ہم اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ حکومت کے لحاظ سے ہندوستان ہرگز دارالحرب نہیں ہے۔ہمارا مقدمہ ہی دیکھ لو۔ اگر یہی مقدمہ سکھوں کے عہد حکومت میں ہوتا اور دوسری طرف ان کا کوئی گرویابرہمن ہوتا،تو بدوںکسی قسم کی تحقیق وتفیتش کے ہم کے پھانسی دے دینا کوئی بڑی بات نہ تھی،مگر انگریزوںکی سلطنت اور عہد