اچھی باتوں کی کیوں پیروی نہیں کرتے؟اس کے جوب میں یہی کہوں گا کہ اصل بات یہ ہے کہ انسان فطرتاً کسی بات کی پیروی نہیں کرتا جب تک کہ اس میں کمال کی مہک نہ ہو اور یہی ایک سر ہے جو اللہ تعالیٰ ہمیشہ انبیاء علیہم السلام کو مبعوث کرتا رہا ہے اور خاتما لنبین کے بعد مجددین کے سلسلے کو جاری رکھا ہے،کیونکہ یہ لوگ اپنے عملی نمونے کے ساتھ ایک جذب اور اثر کی قوت رکھتے ہیں اور نیکیوں کا کمال ان کے وجود میں نظر آتا ہے اس لئے کہ انسان بالچبع کمال کی پیروی کرنا چاہتا ہے۔اگر انسان کی فطرت میں یہ قوت نہ ہوتی،تو انبیاء علیہم السلام کی بھی ضرورت نہ رہتی۔
مامورین کی مخالفت کا سبب لیکن یہ بات کہ انبیاء علیہم السلام اور خدا تعالیٰ کے ماموروں کی مخالفت کیوں کی جاتی ہے اور ان کی تعلیم کی
طرف عدم توجہی کیوں کی جاتی ہے؟اس کا باعث زمانہ کی وہ حالت وہتی ہے جو ان پاک وجودوں کی بعثت کا موجب ہو تی ہے۔زمانہ میں فسق فجور کا ایک دریا رواں ہوتا ہے اور ہر قسم کی بد کاریاں اور برائیاں خدا تعا لیٰ سے بعد اور حرمان اس نیک عمدہ مادے کو اپنے نیچے دبا لیتا ہے۔چونکہ بد کاریوں کے کمال کا ظہور ہو ا ہوتا ہے،اس لئے طبیعت کا یہ مادہ کہ وہ ہر کمال کی پیروی کرنا چاہتا ہے۔اس طرف رجوع کر گیا ہوتا ہے اور یہی وہ سر ہوتا ہے کہ ابتداً انبیاء علیہم السلام اور ماموروں کی مخالفت اور ان کی تعلیم سے بے پروائی ظاہر کی جاتی ہے،آخر ایک وقت آجاتا ہے کہ اس نیکی کے بروز اور کمال کی طرف توجہ ہوجاتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ والاخرۃ عند ربک للمتقین(الزخرف:۳۶)
ظاہری نفاست کا اثر غرض انسانی فطرت میں یہ بات رکھ دی گئی ہے کہ وہ ہر کمال کی پیروی کرنا چاہتی ہے۔دیکھ لو!انگریزوں کی نئی ایجادات سوئی،
چاقو وغیرہ تک کی کس قدر عزت کی جاتی ہے اور دیسی اشیاء کے مقابل میں ان کو کس قدر پسند کیا جاتا ہے؛حالانکہ ان میں بعض اشیاء اصلی نہیں ہوتیں بلکہ اکثر ملمع کی ہوتی ہیں،مگر ظاہری چمک دمک اس قدر ہوتی ہے کہ آنکھوں کو خیرہ کر دیتی ہیں اور اس کی روشنی ایک کشش کے ساتھ اپنی طرف متوجہ کر لیتی ہے۔تم نہیں دیکھتے یہ جھوٹے زیور جو ملمع کیے ہوئے بکتے ہیں،ان کی تجارت کیسی سرعت کے ساتھ بڑ ھ رہی ہے۔اصلی اشیاء کے مقابل میںان کو رکھ کر دیکھو گے،تو معلوم ہو گا کہ اصلی،نقلی معلوم ہوتا ہے اور نقلی اصلی۔ان اشیاء کی طاہری چمک دمک میں ایک روشنی ہے جو ہمارے دیسی صناع اس کو دکھا نہیں سکتے،اس لئے باوجود یکہ لوگ صاف جانتے ہیں کہ یہ اشیاء ملمع شدہ ہیں۔لیکن اس دجل کی کچھ بھی پرواہ نہیں کرتے۔ہر ایک چیز ان کی دیکھو۔دیسی کپڑے،دیسی جوتے،جنٹلمین تعلیم یافتہ ان سے بیزاری ظاہر کرتے ہیں۔کیوں؟صرف اس لئے کہ انگریزی اشیاء میں ایک خاص قسم کی نفاست اور عمدگی ہوتی ہے۔یہ لوگ چمڑے کو ایسا کماتے ہیں کہ اس میں نرمی اور چمک پیدا کر لیتے ہیں۔یہ کیا ہر ایک ادنی سی چیز کو دیکھو