ایمان ہی ہو بلکہ اسے بتدریج ان نعماء کا علم الیقین،عین الیقین اور حق الیقین ہو جاوے۔ علم کے تین مدارج علم کے تین مدارج ہیں ۔ علم الیقین،عین الیقین اور حق الیقین مثلاً ایک جگہ سے دھواں نکلتا دیکھ کر آگ کا یقین کر لینا علم الیقین ہے،لیکن خود آنکھ سے آگ کا دیکھنا عین الیقین ہے۔ان سے بڑھ کر درجہ حق الیقین کاہے ۔یعنی آگ میں ہاتھ ڈال کر جلن اور حرقت سے یقین کر لینا کہ آگ موجود ہے۔پس کیسا وہ شخص بد قسمت ہے جس کو تینوں میں سے کوئی درجہ حاصل نہیں ۔ اس آیت کے مطابق جس پر اللہ تعالیٰ کا فضل نہیں وہ کورانہ تقلید میں پھنسا ہو اہے ۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:وَالَّذِیْنَ جَاھَدُوْ فِیْنَالَنَھْدِیَنَّھُمْ سُبُلُنَا(العنکبوت۷۰)جو ہماری راہ میں مجاہدہ کرے گا ہم اس کو اپنی راہ دکھلا دیں گے یہ تو وعدہ ہے اور ادھر یہ دعا ہے کہ اِھْدِ نَاا لصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ(الفاتحہ ۶)سو انسان کو چاہیے کہ اس کو مد نظر رکھ کر نماز میں دعا بالح کرے اور تمنا رکھے کہ وہ بھی ان لوگوں میں سے ہو جاوے جو ترقی اور بصیرت حاصل کر چکے ہیں ۔ایسا نہ ہو کہ جہان سے بے بصیرت اور اندھا اٹھایا جاوے،فرمایا :مَنْ کَانَ فِیْ ھٰذِہٖ اَعْمٰی فَھُوَ فِی الْاٰخِرَۃِ اَعْمٰی۔(بنی اسرائیل:۷۳)کہ جو اس جہان میں اندھا ہے وہ اس جہان میں بھی اندھا ہے۔ جس کی منشاء یہ ہے کہ اس جہان کے مشاہدہ کے لئے اسی جہان سے ہم کو آنکھیں لے جانی ہیں۔آئندہ جہان کو محسوس کرنے کے لئے حواس کی طیاری اسی جہان میں ہو گی۔پس کیا یہ گمان ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ وعدہ کرے اور پورا نہ کرے۔ اندھا کون ہے؟ اندھے سے مراد وہ ہے جو روحانی معارف اور روحانی لذات سے خالی ہے ۔ایک شخص کورانہ تقلید سے کہ مسلمانوں کے گھر میں پیدا ہو گیا ،مسلمان کہلاتا ہے۔دوسری طرف اسی طرح ایک عیسائی عیسائیوں کے گھر پیدا ہو کر عیسائی ہو گیا۔یہی وجہ ہے کہ ایسے شخص کو خدا،رسول اور قرآن کی کوئی عزت نہیں ہوتی ۔اس کی دین سے محبت بھی قابل اعتراض ہے۔خدا اور رسول کی ہتک کرنے والوں میں اس کا گذر ہوتا ہے۔اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ ایسے شخص کی روحانی آنکھ نہیں ۔اس میں محبت دین نہیں۔والا محبت والا محبوب کے بر خلاف کیا کچھ پسند کرتا ہے؟غرض اللہ تعالیٰ نے سکھلایا ہے کہ میں تو دینے کو تیار ہوں اگر تو لینے کو تیار ہے۔پس یہ دعا کرنا ہی اس ہدایت کو لینے کی تیاری ہے۔ متقی اس دعا کے بعد سورۃ بقرہ کے شروع میں ہی جو ھُدًی الِلْمُتَّقِیْنَ(البقرہ:۳)کہا گیا،تو گویا خدا تعالیٰ نے دینے کی تیاری کی ۔یعنی یہ کتاب متقی کو کمال تک پہنچانے کا وعدہ کرتی ہے۔سو اس کے معنی یہ ہیں کہ یہ کتاب ان کے لئے نافع ہے جو پرہیز کرتے اور نصیحت کو سننے کے لئے تیار ہوں۔اس درجہ کا متقی وہ ہے جو مخلیٰ بالطبع ہو کر حق کی بات سننے کو تیارہو۔ایسے کوئی مسلمان ہوتا ہے تو وہ متقی بنتا ہے۔جب کسی غیر مذہب کے اچھے دن آئے،تو اس میں اتقاء پیدا ہوا ،عجب غرور،پندار دور ہوا۔یہ تما م روکیں تھیں جو دور ہو گئیں ۔ان کے دور ہونے سے تاریک گھر کی