حضرت اقدس کی ایک تقریر فرمودہ ۳۱جنوری۱۸۹۸؁ء انسان بالطبع کمال کی پیروی کرنا چاہتا ہے یاد رکھو کہ فضائل بھی امراض متعدیہ کی طرح متعدی ہونے ضروری ہیں۔ مومن کے لئے حکم ہے کہ وہ اپنے اخلاق کو اس درجہ تک پہنچائے کہ وہ متعدی ہوجائیں۔ کیونکہ کوئی عمدہ سے عمدہ بات قابل پزیرائی اور واجب التعمیل نہیں ہو سکتی،جب تک اس کے اندر ایک چمک اور جاذب نہ ہو۔اس کی درخشانی دوسروںکو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے۔اور جذب ان کو کھینچ لاتا ہے۔اور پھر اس فعل کی اعلیٰ درجے کی خوبیاںخود بخود دوسرے کو اپنی طرف متوجہ کرتیں ہیں۔دیکھو!حاتم کا نیک نام ہونا سخاوت کے باعث مشہور ہے۔گو میں نہیں کہہ سکتا کہ وہ خلوص سے تھی۔ایسا ہی رستم وافسند یار کی بہادری کے افسانے عام زبان ذدہ ہیں؛اگرچہ ہم نہیں کہہ سکتے کہ وہ خلوص سے تھے۔میرا ایمان اور مذہب یہ ہے کہ جب تک انسان سچا مومن نہیں بنتا ،اس کے نیکی کے کام خوا کیسے ہی عظیم الشان نہ ہوں…وہ ریا کاری کے ملمع سے خالی نہیںہوتے۔لیکن چونکہ ان میں نیکی کی اصل موجود ہوتی ہے اور یہ وہ قابل جوہر ہیں،جو ہر جگہ عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔اس لئے بایں ہمہ ملمع سازیوریا کاری وہ عزت سے دیکھے جاتے ہیں۔ خواجہ صاحب نے ایک نقل میرے پاس بیان کی تھی اور خود میں نے بھی اس قصہ کو پڑھا ہے کہ سر فلپ سڈنی ملکہ الزبتھ کے زمانے میں قلعہ زلفن ملک ہالینڈ کے محاصرے میں جب زخمی ہوا ،تو اس وقت عین نزع کی تلخی اور شدر پیاس کے وقت جب اس کے لئے ایک پیالہ پانی کا جو وہاں بہت کمیاب تھا،مہیا کیا گیا تو اس کے پاس ایک اور زمی سپاہی تھا جو نہایت پیاسا تھا۔ وہ سر فلپ سڈنی کی طرف حسرت اور طمع کے ساتھ دیکھنے لگا۔سڈنی نے اس کی یہ خواہش دیکھ کر پانی کا وہ پیالہ خود نہ پیا بلکہ بطور ایثار یہ کہہ کر اس سپاہی کو دے دیا کہ ’’ تیری ضرورت مجھ سے زیادہ ہے‘‘مرنے کے وقت بھی لوگ ریا کاری سے نہیں رکتے۔ایسے کام اکثر ریا کاروں سے ہو جاتے ہیں،جو اپنے آپ کو اخلاق فاضلہ والے انسان ثابت کرنا یا دکھاناچاہتے ہیں۔غرض کوئی انسان ایسا نہیں ہے کہ اس کی ساری باتیں بری حالت کی اچھی ہوں،لیکن سوال یہ ہے کہ انسان