کچھ ان کے پاس ہوتا ہے،وہ اس کو خدا کا ہی سمجھتے ہیں اور اپنے عمل سے چابت کر کے دکھاتے ہیں۔صحابہؓ کی حالت دیکھو!جب امتحان کا وقت آیا ،تو جو کچھ کسی کے پاس تھا،اللہ تعالیٰ کی راہ میں دے دیا۔حضرت ابو بکر صدیقؓ سب سے اول کمبل پہن کر آگئے۔پھر اس کمبل کی جزا بھی اللہ تعالیٰ نے کیا دی کہ سب سے اول خلیفہ وہی ہوئے۔غرض یہ ہے کہ اصلی خوبی،خیر اور روحانی لذت سے بہرہ ور ہونے کے لئے وہی مال کام آسکتا ہے،جو خدا کی راہ میں خرچ کیا جائے۔؎۱ ۳۰ جنوری ۱۸۹۸؁ء دنیا اور دنیوی خوشیوں کی حقیقت دنیا اور دنیا کی خوشیوں کی حقیقت لہو ولعب سے زیادہ نہیں۔عارضی اور چند روزہ ہیں اور ان خوشیوں کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسان خدا سے دور جا پڑتا ہے۔مگر خدا کی معرفت میں جو لذت ہے وہ ایک ایسی چیز ہے کہ جو نہ آنکھوں نے دیکھی نہ کانوں نے سنی نہ اور کسی حس نے اس کو محسوس کیا ہے۔وہ ایک چیر کر نکل جانے والی چیز ہے۔ہر آن ایک نئی راحت اس سے پیدا ہوتی ہے جو پہلے نہیں دیکھی ہوتی۔ خدا تعالیٰ کے ساتھ انسان کاایک خاص تعلق ہے۔ اہل عرفان لوگوں نے بشریت اور بوبیّت کے جوڑہ پر بہت لطیف بحثیں کی ہیں۔اگر بچّے کا منہ پتھر سے لگائیں تو کیا کوئی دانشمند خیال کر سکتا ہے کہ اس پتھر میں سے دودھ نکل آئے گا اور بچہ سیر ہو جائیگا۔ہرگز نہیں۔اسی طرح پر جب تک انسان خداتعالی کے آستانہ نہیںگرتا،اس کی روح ہمہ نیستی ہو کر ربوبیت سے تعلق پیدا نہیں کر سکتی اور نہیںکرتی جبتک کہ وہ عدم یا مشابہ بالعدم نہ ہو،کیونکہ ربوبیت اسی کو چاہتی ہے۔اس وقت تک وہ روحانی دودھ سے پروش نہیںپاسکتا۔ لَہْو میںکھانے پینے کی تمام لذتیں شامل ہے۔ان کاانجام دیکھو کہ بجز کثافت کے اور کیا ہے۔زینت،سواری، عمدہ مکانات پر فخر کرنا یا حکومت وخاندان پر فخر کرنا یہ سب باتیں ایسی ہیں کہ بالآخر اس سے ایک قسم کی حقارت پیداہو جاتی ہے۔جورنج دیتی اور طبیعت کو افسردہ اور بے چین کر دیتی ہے۔ لَعْب میں عورتوں کی محبت بھی شامل ہے۔انسان عورت کے پاس جاتا ہے مگر تھوڑی دیرکے بعد وہ محبت اور لذت کثافت سے بدل جاتی ہے ،لیکن اگر یہ سب کچھ محض اللہ تعالی کے ساتھ ایک حقیقی عشق ہونے کے بعد ہو،تو پھر راحت پر راحت اور لذت پر لذت ملتی ہے۔یہاںتک کہ معرفت حقہ کے دروازے کھل جانے ہیں اوروہ ایک ابدی اور غیر فانی راحت میںداخل ہو جاتا ہے جہاں پاکیزگی اور طہارت کے سوا کچھ نہیں۔وہ خدا میںلذت ہے۔ اس کو حاصل کرنے کی کوشش کرو اوراسے ہی پائو کہ حقیقی لذت وہی ہے ۔ ؎۲