خاص طور پر میموریل بھیجنے پڑے اور اپنے حالات سے خود اس کو مطلع کرنا پڑا ،تا کہ اس کو صحیح اور سچے واقعات کو علم ہو۔مناسب ہے کہ ان ابتلاؤں کے دنوں میں اپنے نفس کو مار کر تقویٰ اختیار کریں۔میری غرض ان باتوں سے یہی ہے کہ تم نصیحت اور عبرت پکڑو۔
دنیا فنا کا مقام ہے۔آخر مرنا ہے،خوشی دین کی باتوں میں ہے۔اصلی مقصد تو دین ہی ہے۔
رمضان کی حقیقت رَمَض سورج کی تپش کو کہتے ہیں ۔رمضان میں چونکہ انسان ا کل وشرب اور تمام جسمانی لذتوں پر صبر کرتا ہے۔دوسرے اللہ تعالیٰ
کے احکام کے لئے ایک حرارت اور جوش پیدا کرتا ہے۔روحانی اور جسمانی حرارت اور تپش مل کر رمضان ہوا ۔اہل لغت جو کہتے ہیں کہ گرمی کے مہینے میں آیا،اس لئے رمضان کہلایا۔میرے نزدیک یہ صحیح نہیں ہے۔کیونکہ عرب کے لئے یہ خصو صیت نہیں ہو سکتی۔روحانی رمض سے مراد روحانی ذوق وشوق اور حرارت دینی ہوتی ہے۔رمض اس حرارت کو بھی کہتے ہیں،جس سے پتھر گرم ہو جاتے ہیں۔؎۱
۲۹ جنوری۱۸۹۸ء
روحانی طاقتوں پر معبود کا اثر انسان کی روحانی طاقتوں پر اس کے معبود کا اثر پڑتا ہے۔دیکھو!اگر کوئی ہندو آجائے،تو دور ہی سے اس سے
غفلت کی بو آتی ہے۔کیوں؟اس لئے کہ ان کا خود ساختہ معبود بھی تو ایسا ہی غافل ہے جب تک ایک انگریز کے کھانے کی گھنٹی کی طرح گھنٹی نہ بجے،تو وہ بیدار ہی نہیں ہوتا ۔یہی وجہ ہے کہ روحانی زندگی سے جو معرفت اور شفا حاصل ہوتی ہے،اس سے یہ لوگ محروم رہتے ہیں؛ورنہ جسمانی طور پر تو بڑے متمول اور آسودہ حال ہوتے ہیں۔
رزق ابتلا اور رزق اصطفاء اصل بات یہ ہے کہ رزق دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک ابتلا کے طور پر،دوسرے اصطفاء کے طور پر۔رزق ابتلا کے طور پر تو رزق ہے،جس کو اللہ سے واسطہ نہیں رہتا ۔بلکہ یہ رزق انسان کو خدا سے دور ڈالتاجاتا ہے۔یہاں تک کہ اس کو ہلاک کر دیتا ہے۔اسی طرف اللہ نے اشارہ کر کے فرمایا ہے۔لاَ تُلْھِکُمْ اَمْوَالِکُمْ(المنافقون:۱۰)تمہارے مال تم کو ہلاک نہ کر دیں اور رزق اصطفاء کے طور پر وہ ہوتا ہے،جو خدا کے لئے ہو۔ایسے لوگوں کا متولی خدا ہو جا تا ہے اور جو