ناراض کرنے والی باتوں سے توبہ کرے۔توبہ سے مراد یہ ہے کہ ان تمام بد کاریوں اور خدا کی ن ارضا مندی کے باعثوں کو چھوڑ کر ایک سچی تبدیلی پیدا کریںاور آگے قدم رکھیں اور تقویٰ اختیار کرین۔اس میں بھی خدا کا رحم ہوتا ہے۔عادات انسانی کو شائستہ کریں۔غضب نہ ہو۔توضع اور انکساری اس کی جگہ لے لیں۔اخلاق کی درستی کے ساتھ اپنے مقدور کے موافق صدقات کا دینا بھی اختیار کرو۔یُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰی حُبِّہٖ مِسْکِیْنًا وَّ یَتِیْمًا وَّاَسِیْرًا(الدھر:۹)یعنی خدا کی رض اکے لئے مسکینوں اور یتیموں اور اسیروں کو کھانا دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ خاص ہم خدا تعالیٰ کی رضا کے لئے دیتے ہیں اور اس دن سے ہم ڈرتے ہیں جو نہایت ہی ہولناک ہے۔
قصہ مختصر دعا سے ،توبہ سے کام لو اور صدقات دیتے رہو۔تا کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل وکرم کے ساتھ تم سے معاملہ کرے۔
برامعلوم نہ ہو ۔کسی کو استخفاف کی نظر سے نہ دیکھا جائے۔دل شکستی نہ کی جاوے۔جماعت میں باہم جھگڑے فساد نہ ہوں۔دینی غریب بھائیوں کو کبھی حقارت کی نظر سے نہ دیکھو۔مال ودولت یا نسبی بزرگی پر بے جا فخر کر کے دوسروں کو حقیر اور ذلیل نہ سمجھو۔خدا رتعالیٰ کے نزدیک مکرم وہی ہے جو متقی ہے؛چنانچہ فرمایا ہے اِنْ اَکْرَمَکُمُ عِنْدَا للّٰہِ اَتْقٰکُمْ (الحجرات:۱۴)دوسروں کے ساتھ بھی پورے اخلاق کے ساتھ پیش آنا چاہیے۔جو بد اخلاقی کا نمونہ ہوتا ہے،وہ بھی اچھا نہیں۔ہماری جماعت کے ساتھ لوگ صرف مقدمہ بازی کا صرف بہانہ ہی ڈھونڈتے ہیں۔لوگوں کے لئے ایک طاعون ہے۔ہماری جماعت کے لئے دو طا عون ہیں۔اگر جماعت میں سے کوئی ایک بھی برائی کرے گا ،تو اس ایک سے ساری جماعت پر حرف آئے گا۔دانش مندی۔حلم اور در گزر کے ملکہ کو بڑھاؤ۔نادان سے نادان کی باتوں کا جواب بھی متانت اور سلامت روی سے دو۔یا وہ گوئی کا جواب یا وہ گوئی نہ ہو۔میں جانتا ہوں۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تعلیم میں بھی کچھ ایسی ہی حکمت عملی تھی کہ اگر ایسا نہ کرتے،تو روز ماریں کھاتے پھرتے۔رومیوں کی سلطنت تھی۔یہود کے فقیہہ اور فریسی اس کے مقرب تھے۔اس وقت اگر وہ ایک گال پر طمانچہ کھا کر دوسرا گال نہ پھیرتے تو روز ماریں کھایا کرتے اور روز مقدمے ہوتے۔باوجود یکہ وہ ایسی نرم تعلیم دیتے تھے۔پھر بھی یہود ان کو دم نہیں لینے دیتے تھے۔اس وقت کی موجودہ حالت انجیل ہی کی تعلیم کو چاہتی ہو گی۔اس وقت ہماری جماعت کی حالت بھی قریباً ویسی ہی ہے۔کیا تم نہیں دیکھتے کہ مارٹن کلارک عیسائی کے مقدمے میں محمد حسین نے بھی اس کی گواہی دی۔اب سمجھ لو کہ قوم سے بھی کوئی امید نہیں ہے۔رہی گورنمنٹ اس کو بھی بد ظن کیا جاتا ہے اور گورنمنٹ کسی حد تک معذور بھی ہے۔اگر خدا نخواستہ وہ بد ظن ہو،کیونکہ عالم الغیب نہیں ہے۔اس لئے ہم کو اکثر مرتبہ گورنمنٹ کے حضور