جو دوسرا عذاب ہے اور مرض بھی بڑھ کرہے۔ عورت ہو یا بچہ ہو الگ کیا جاتا ہے اورگھر کو خالی کرنے کا حکم دیا جاتا ہے۔ اس مرض اور اس کے قانون پرغور کرکے میرے دل میں ایک درد پیدا ہوااور مَیں نے تہجد میں اس کے متعلق دُعا کی تو الہام ہو ااِنَّ اللّٰہُ لَا یُغَیِّرُمَابِقَوْمِ حَتّٰی یُغَیِّرُوْامَا بِاَنْفُسِھِمْ (الرعد:۱۲)اب خیال ہوت اہے کہ وہ الہام جو ہواتھا کہ :’’کون کہہ سکتا ہے اے بجلی آسمان سے مت گر۔‘‘ شاید اسی سے متعلق ہو۔ مَیں تمہیں یہ سمجھانا چاہت اہوں کہ جو لوگ قبل از نزول بلا دُعا کرتے ہیں اور استغفار کرتے اور صدقات دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اُن پر رحم کرتا ہے اور عذابِ الہٰی سے اُن کو بچالیتاہے۔ میری ان باتوں کو قصہ کے طور پر نہ سنو۔ میں نصحاً اللہ کہتا ہوں اپنے حالات پرغورکرو۔ اور آپ بھی اور اپنے دوستوں کو بھی دُعا میں لگ جانے کے لئے کہو۔ استغفار، عذابِ الہٰی اور مصائب شدیدہ کے لئے سپر کاکام دیتاہے۔قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: مَاکَانَ اللّٰہُ مُعَذِّبَھُمْ وَھُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ(الانفال:۳۴) اس لئے اگر تم چاہتے ہو کہ اس عذاب الہٰی سے تم محفوظ رہو، تو استغفار کثرت سے پڑھو۔ گورنمنٹ کو اختیار ہوگا کہ مبتلا اشخاص کو علیٰحدہ رکھا جائے۔ گویا وہ لوگ جو علیٰحدہ کیے جائیں گے قبروں میں ہی ہوں گے۔ امیر وغریب ، مرد وعورت ، بوڑھے جوان کا کوئی لحاظ نہ کیا جاوے گا۔ اس لیے خدانخواستہ اگر کسی ایسی جگہ طاعون پھیلے ، جہاں تم میں سے کوئی ہو، تومَیں تمہیں ہدایت کرتا ہوں کہ گورنمنٹ کے قوانین کی سب سے پہلے اطاعت کرنے والے تم ہو۔ اکثرمقامات میں سُناگیا ہے کہ پولیس والوں سے مقابلہ ہوا۔ میرے نزدیک گورنمنٹ کے قوانین کے خلاف کرنا بغاوت ہے، جو خطرناک جُرم ہے۔ہاں گورنمنٹ کا بیشک یہ فرض ہے کہ وہ ایسے افسر مقرر کرے جو خوش اخلاق، متدین اور ملک کے رسم ورواج اور مذہبی پابندیوں سے آگاہ ہوں۔ غرض تم خود ان قوانین پر عمل کرو اور اپنے دوستوں اور ہمسایوں کو ان قوانین کے فوائد سے آگاہ کرو۔مَیں باربارکہتاہوں کہ دُعائوں کا وقت یہ معلوم ہوتا ہے۔ اس وبا نے پنجاب کا رُخ کرلیا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ ہر ایک متنبہ اور بیدار ہوکر دُعا کرے اور توبہ کرے۔ قرآن شریف کا منشایہ ہے کہ جب عذاب سر پر آپڑے پھر توبہ عذاب سے نہیں چھڑاسکتی۔ عذاب الہٰی سے بچنے کے طریقے اس لیے اس پیشتر کے عذاب الہٰی آکر توبہ کا دروازہ بندکردے، توبہ کرو۔ جب کہ دُنیا کے قانون سے اس قدر ڈر پیدا ہوتا ہے ، تو کیا وجہ ہے کہ خداتعالیٰ کے قانوں سے نہ ڈریں۔جب بلا سر پر آپرے تو اس کا مزا چکھنا ہی پڑتا ہے۔چاہیے کہ ہر شخص تہجد میں اٹھنے کی کوشش کرے اور پانچ وقت کی نمازوں میں بھی قنوت ملا دیں۔ہر ایک خدا کو