کے حیلوں اور مکروں سے مجھے ذلیل اور نابود کرنا چاہا ۔ اگر خداتعالیٰ کے فضل سے گورنمنٹ برطانیہ کا اس ملک میں راج نہ ہوتا، تو یہ مدت سے میرے قتل سے دل خوش کرلیتے، مگر خداتعالیٰ نے ان کو ہر مُراد میں نامراد کیا اور وہ جو اس کا وعدہ تھا کہ وَاللّٰہُ یَعْصِمُکَ مِنَ النِّاسِ (المائدہ:۶۸) وُہ پورا ہوا۔ غرض اس دُعا میں غَیْرَ الْمَغْضُوْبِ کا فقرہ مُسلمانوں کے ایک گروہ کی اس حالت کا پتہ دیت اہے، جو وہ مسیح موعود کے مقابل مخالفت اختیار کرے گا اور ایسا ہی اَلضَّآلِیْنَ سے مسیح موعودکے زمانہ کا پتہ لگتا ہے کہ اس وقت صلیبی فتنہ کا زور اپنے انتہائی نقطہ پرپہنچ جائے گا۔ اس وقت خداتعالیٰ کی طرف سے جو سلسلہ قائم کیا جائے گا وہ مسیح موعود ہی کا سلسلہ ہوگا اور اس لئے احادیث میں مسیح موعودکا نام خداتعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی معرفت کاسرالصلیب رکھا ہے ۔ کیونکہ یہ سچی بات ہے کہ ہر ایک مجددفتن موجودہ کی اصلاح کے لئے آتا ہے۔ اب اس وقت خدا کے لئے سوچو، تو کیا معلوم نہ ہوگ اکہ صلیبی نجات کی تائید میں قلم اور زبان سے وُہ کام لیاگ یا ہے کہ صفحات عالم کو ٹٹولا جائے تو باطل پرستی کی تائید میں یہ سرگرمی اور زمانہ میں ثابت نہ ہوگی اور جب کہ صلیبی فنہ کے حامیوں کی تحریریں اپنے انتہائی نقطہ پر پہنچ چکی ہیں اور توحید حقیقی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عفت عزت او ر حقانیت اور کتاب اللہ کے منجانب اللہ ہونے پر ظلم اور زُورکی راہ سے حملے کئے گئے ہیں، توکیا اللہ تعالیٰ کی غیرت کا تقاضہ نہیں ہونا چاہیے کہ اُ س کاسرالصلیب کو نازل کرے؟ کیا خداتعالیٰ کی غیرت کا تقاضہ نہیں ہوناچاہیے کہ اُس کاسرالصلیب کو نازل کر ے؟ کیا خداتعالیٰ اپنے وعدہ اِنَا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَاِنَّا لَہُ لَحَافِظُوْنَ۔(الحجر:۱۰) کو بھول گیا؟ یقینا یادرکھو کہ خداتعالیٰ کے وعدے سچے ہیں۔ اُس نے اپنے وعدہ کے موافق دنیا میں ایک نذیر بھیجا ہے۔ دُنیا نے اس کوقبول نہ کیا، مگرخدا تعالیٰ اُس کو ضرورقبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی کو ظاہر کرے گا۔ مَیں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ مَیں خداتعالیٰ کے وعدہ کے موافق مسیح موعود ہوکر آیا ہوں۔ چاہوتو قبول کرو چاہو تو رَدّ کرو۔ مگر تمہارے رَدّ کرنے سے کچھ نہ ہوگا۔ خداتعالیٰ نے جوارادہ فرمایا ہے ، وُہ ہوکر رہے گا، کیونکہ خداتعالیٰ نے پہلے سے براہینؔ میں فرمادیا ہے۔ صَدَقَ اللّٰہُ وَرَسُوْلِہٖٖٖ وَکَانَ وَعْدًامَّفْعُوْلًا ۲۱؍جنوری ۱۸۹۸؁ء استغفار عذابِ الہٰی اور مصائب شدیدہ کے لئے سپر کاکام دیتا ہے بجائے خود مرضِ طاعون عذاب شدید ہے۔ دُوسرا قانون اس پر سخت ہے۔