جیسا کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عملی اور فعلی حالت سے دکھایا ہے یہانتک کہ آپؐ کے انواروبرکات کا دائرہ اس قدر وسیع ہے کہ ابدالآباد تک اس کا نمونہ اور ظل نظرآتا ہے؛ چنانچہ اس زمانہ میں بھی جو کچھ خداتعالیٰ کا فیض اور فضل نازل ہورہا ہے، وہ آپؐ ہی کی اطاعت اور آپؐ ہی کی اتباع سے ملتا ہے۔ مَیں سچ کہتاہوں اور اپنے تجربہ سے کہتا ہوں کہ کوئی شخص حقیقی نیکی کرنے والا اور خداتعالیٰ کی رضا کو پانے والا نہیں ٹھہر سکتا اور ان انعام و برکات اور معارف اور حقائق اور کشوف سے بہرہ ور نہیںہوسکتا، جو اعلیٰ درجہ کے تزکیۂ نفس پر ملتے ہیں۔ جب تک کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں کھویا نہ جائے اور اس کاثبوت خود خداتعالیٰ کے کلام سے ملتا ہے قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللّٰہَ فَا تَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ (اٰل عمران:۳۲)اور خدا تعالیٰ کے اس دعویٰ کی عملی اور زندگی دلیل مَیں ہوں۔ ان نشانات کے ساتھ جو خداتعالیٰ کے محبوبوں اور ولیوں کے قرآن شریف میں مقرر ہیں مجھے شناخت کرو۔ غرض نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کا کمال یہانتک ہے کہ اگر کوئی بڑھیا بھی آپؐ کا ہاتھ پکڑتی تھی تو آپؐ کھڑے ہوجاتے اور اسکی باتوں کو نہایت توجہ سے سُنتے اور جب تک وہ خود آپؐ کونہ چھوڑتی۔آپؐ نہ چھوڑتے تھے۔
مغضوب اور ضالین کی راہوں سے بچنے کی ہدایت اور پھرغَیْرَالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَالَا الضَّآلِیْنَ۔
مَلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ کے مقابل ہے۔ اس کا ورد کرنے والا چشمہ مالک یوم الدین سے فیض پاتا ہے جس کا مطلب اور مفہوم یہ ہے کہ اے جزا و سزا کے د کے مالک ہمی اس سے بچا کہ یہودیوں کی طرح جو دُنیا میں طاعون وغیرہ بلائوں کا نشانہ ہوئے اور اس کے غضب سے ہلاک ہوگئے یا نصاریٰ کی طرح نجات کی راہ کھوبیٹھیں۔ اس میں یہود کا نام مغضوب اس لئے رکھاگیا ہے کہ ان کی شامتِ اعمال سے بھی اُن پر عذاب آیا، کیونکہ اُنہوں نے خداتعالیٰ کے پاک نبیوں اور راستبازوں کی تکذیب کی اور بہت سی تکلیفیں پہنچائیں اور یہ بات بھی یادرکھنی چاہیے کہ خداتعالیٰ نے جو یہاں سورۂ فاتحہ میں یہودیوں کی راہ سے بچنے کی ہدایت فرمائی ور اس سورہ کو الضالین پر ختم کیا یعنی اُن کی راہ سے بچنے کی ہدایت فرمائی۔ تو اس میں کیا سرتھا ۔ اس میں یہی راز تھا کہ اُمتِ محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی اسی قسم کا زمانہ آنے والا ہے، جب کہ یہود کی تتبع کرنے والے ظاہر پرستی کریں گے اور استعارات کو حقیقت پر حمل کرکے خدا کے راستباز کی تکذیب کے لئے اُٹھیں گے، جیسا کہ یہود نے مسیح ابن مریم کی تکذیب کی تھی اور انہیں یہی مصیبت پیش آئی کہ اُنہوں نے اس کی تاویل پرٹھٹھا کیا اور کہا کہ اگر خدا کا یہی مطلب تا کہ ایلیاؔ کا مثیل آئے گا، تو کیوں خدا نے اپنی پیشگوئی میں اس کی صراحت نہ کی ۔ غرض اسی روش اور طریق پر اس وقت ہمارے مخالفوں نے بھی قدم مارا ہے اور میری تکذیب اورا یذادہی میں انہوں نے کوئی دقیقہ باقی نہیں چھوڑا۔ یہاں تک کہ میرے قتل کے فتوے دیتے اور طرح طرح