دیتا ہے ۔ اگر ہمارے وجود کی ساخت ایسی نہ ہوتی، تو ہم سجدہ نہ کرسکتے اور رکوع نہ کرسکتے۔ اس لئے ربوبیت کے مقابلہ میںاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنَفرمایا۔ جیسے باغ کا نشوونما پانی کے بغیر نہیں ہوتا۔ اسی طرح پر اگر خد اکے فیض کا پانی نہ پہنچے تو ہم نشوونما نہیں پاسکتے۔ درخت پانی کو چُوستا ہے۔ اس کی جڑوں میں دبانے اور سُوراخ ہوتے ہیں۔ علم طبعی میں یہ مسئلہ ہے کہ درخت کی شاخیں پانی کو جذب کرتی ہیں۔ اُن میں قوتِ جاذبہ ہے۔ اسی طر ح پر عبودیت میں ایک قوت جاذبہ ہوتی ہے جو خدا کے فیضان کو جذب کرتی ہے اور چوستی ہے۔ پس اَلرَّحْمٰن کے بالمقابل اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ ہے یعنی اگر اس کے رحمانیت ہمارے شاملِ حال نہ ہوتی۔ اگر یہ قویٰ اور طاقتیں اس نے عطا نہ کی ہوتیں ، تو ہم اس فیض سے کیونکر بہرہ ور ہوسکتے۔ ہدایت رحمانیت الہٰی سے ملتی ہے پس اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْم۔ اَلرَّحْمٰن کے بالمقابل ہے، کیونکہ ہدایت پانا کسی کا حق تو نہیں ہے ، بلکہ محض رحمانیت الہٰی سے یہ فیض حاصل ہوسکتا ہے اور صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ۔ اَلرَّحِیْمِ کے بالمقابل ہے ، کیونکہ اس کا ورد کرنے والا رحیمیت کے چشمہ سے فیض حاصل کرتا ہے اور اس کے یہ معنی ہیں کہ اے رحمِ خاص سے دُعائوں کے قبول کرنے والے اُن رُسولوں اور صدیقوں اور شھیدوں اور صالحوں کی راہ ہم کو دکھا ، جنھوں نے دُعا اور مجاہدات میں مصروف ہوکر تجھ سے انواع و اقسام کے معارف اور حقائق اور کشوف اور الہامات کا انعام پایا اور دائمی دُعا اور تضرع اور اعمال صالحہ سے معرفتِ تامہ کو پہنچے۔ رحیمیت کے مفہوم میں نقصان کا تدارک کرنالگا ہوا ہے۔ حدیث میں آیا ہے۔ اگر فضل نہ ہوتا، تو نجات نہ ہوتی۔ ایسا ہی حدیث سے معلوم ہوتاہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا نے آپؐ سے سوال کیا کہ یا حضرت! کیا آپؐ کا بھی یہی حال ہے۔ آپؐ نے سر پر ہاتھ رکھا اور فرمایا ۔ ہاں۔ نادان اور احمق عیسائیوں نے اپنی نافہمی اور ناواقفی کی وجہ سے اعتراض کیے ہیں، لیکن وُہ نہیں سمجھتے کہ یہ آپؐ کی کمال عبودیت کا اظہار تھا جو خداتعالیٰ کی ربوبیت کو جذب کررہا تھا۔ ہم نے خود تجربہ کرکے دیکھا ہے اورمتعدد مرتبہ آزمایا ہے، بلکہ ہمیشہ دیکھتے ہیں کہ جب انکسار اور تذلل کی حالت انتہا کو پہنچتی ہے اور ہماری رُوح اس عُبودیت اور فروتنی میں بہہ نکلتی ہے اور آستانہِ حضرت واہب العطایا پر پہنچ جاتی ہے تو ایک روشنی اور نور اوپر سے اترتا ہے اور ایسا معلوم ہوتاہے جیسے ایک نالی کے ذریعے سے مصفا پانی دُوسری نالی میں پہنچتاہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے انوار وبرکات پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حالت جس قدر بعض مقامات پر فروتنی اور انکساری میں کمال پر پہنچی ہوئی نظر آتی ہے۔ وہاں معلوم ہوتا ہے کہ اسی قدرآپؐ رُوح القدس کی تائیداور روشنی سے مؤیدّ اور منورہیں۔