ت ہے۔ جیسے ایک شخص اگر تیرچلائے اوروُہ تیرا بھی جاہی رہا ہوکہ اُس شخص کا دم نکل جائے، تو بتائو اس تیر کی حالت میں کیا فرق آئے گا۔ ہاتھ سے نکلنے کے بعد دوہ چلانے والے کے وجود کا محتاج نہیں ہے۔ اسی طرح پر ہندوئوں کے خدا کے لئے اگر یہ تجویز کی جائے کہ وُہ ایک وقت مرجاوے، تو کوئی ہندو اُس کی موت کا نقصان نہیں بتاسکتا۔ مگر ہم خد اکے لئے ایساتجویز نہیں کرسکتے، کیونکہ اللہ کے لفظ ہی سے پایا جاتا ہے کہ اس میں کوئی نقص اور بدی نہ ہو۔ ایسا ہی جب کہ آریہ مانت اہے کہ اجسام اور رُوحیں انادی ہیں یعنی ہمیشہ سے ہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ جب تمہارا یہ اعتقاد ہے پھر خدا کی ہستی کا ثبوت ہی کیا دے سکتے ہو؟ اگر کہو کہ اس نے جوڑا جاڑا ہے تو ہم کہتے ہیں کہ جب تم پر مانو اور پر کوئی کو قدیم سے مانتے ہو اور اس کے وجود کو قائم بالذات کہتے ہو، تو پھر جوڑنا جاڑنا ، تو ادنیٰ فعل ہے۔ وہ جڑ بھی سکتے ہیں اور ایس اہی جب وہ یہ تعلیم بتاتے ہیں کہ خدا نے وید میں مثلاً یہ حکم دیا ہے کہ اگر کسی عورت کے ہاں اپنے خاوند سے بچہ پیدا نہ ہوسکتا ہو، تو وہ کسی دوسرے سے ہمبستر ہوکر اولاد پیدا کرلے، تو بتائو ایسے خدا کی نسبت کیا کہا جائے گا؟ یا مثلاً یہ تعلیم پیش کی جائے کہ خدا کسی اپنے پریمی اور بھگت کو ہمیشہ کے لئے مکتی یعنی نجات نہیں دے سکتا بلکہ مہاپرلے کے وقت اس کو ضرور ہوتا ہے کہ مکتی یا فتہ انسانوں کو پھر اُسی تناسخ کے چکر میں ڈالے یا مثلاً خدا کی نسبت یہ کہنا کہ وہ کسی کو اپنے فضل وکرم سے کچھ بھی عطا نہیں کرسکتا، بلکہ ہر ایک شخص کو وہی ملتا ہے جو اُس کے اعمال کے نتائج ہیں پھر ایسے خدا کی کیا ضرورت باقی رہتی ہے ۔ غرض ایسا خدا ماننے والے کو سخت شرمندہ ہوناپڑے گا۔ عیسائیوں کے نزدیک خدا کا تصور ایساہی عیسائی بھی جب یہ پیش کریں گے کہ ہمارا خدا یُسوع ہے اور پھر اُس کی نسبت وہ یہ بیان کریں گے کہ یہودیوں کے ہاتھوں سے اُس نے ماریں کھائیں۔ شیطان اُسے آزماتا رہا۔ بھوک اور پیاس کا اثر اس پر ہوتارہا۔ آخر ناکامی کی حالت میں پھانسی پر چڑھایا گیا۔ تو کون دانشمند ہوگا جو ایسے خدا کے ماننے کے لئے تیار ہوگا۔ غرض اسی طرح پر تمام قومیں اپنے مانے ہوئے خدا کا ذکرکرتی ہوئی شرمندہ ہوجاتی ہیں، مگر مُسلمان کبھی اپنے خدا کا ذکر کرتے ہوئے کسی مجلس میں شرمندہ نہیں ہوتا، کیونکہ جو خوبی اور عمدہ صِفت ہے، وہ اُن کے مانے ہوئے خد امیں موجود اور جو نقص اور بدی ہے اُس سے وہ منزہ ہے۔ جیسا کہ سُورۃ الفاتحہ میں اللہ کو تمام صفات حمیدہ کا موصوف قراردیا ہے۔ تو اَلْحَمْدُلِلّٰہِ کے مقابل میں اِیَّا کَ نَعْبُدُ ہے۔ اس کے بعد ہے رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ربوبیت کا کام ہے۔ تربیت اور تکمیل ۔ جیسے ماں اپنے بچہ کی پرورش کرتی ہے، اس کو صاف کرتی ہے۔ ہر قسم کے گنداور آلائش سے دُوررکھتی ہے اور دُودھ پلاتی ہے۔ دُوسرے الفاظ میں یوُں کہو کہ وہ اُس کی مدد کرتی ہے۔ اب اس کے مقابل میں یہاں اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنَ ہے پھر اَلرَّحْمٰن ہے جو بغیر خواہش ، بُدوں درخواست اور بغیر اعمال کے اپنے فضل سے