تیرے پہلے عطیوں اور قوتوں کو بیکار اور بربادنہیں کیا۔ یادرکھو! رحمانیت کا خاصہ یہی ہے کہ وہ رحمانیت کا خاصہ یہی ہے کہ وہ رحیمیت سے فیض اُٹھانے کے قابل بنادے، اس لئے خداتعالیٰ نے جو اُدْعُوْنِیْٓ اَسْتَجِبْ لَکُمْ (المومن:۶۱) فرمایا یہ نری لفاظی نہیں ہے، بلکہ انسانی شرف اسی کا متقاضی ہے۔ مانگنا انسانی خاصہ ہے اور جو استجابت جو اللہ تعالیٰ کا نہیں وُہ ظالم ہے۔ دُعا ایک ایسی سُرور بخش کیفیت ہے کہ مجھے افسوس ہوت اہے کہ میں کن الفاظ میں اس لذت اور سُرور کو دُینا کو سمجھائوں۔ یہ تو محسوس کرنے سے ہی پتہ لگے گا۔مختصر یہ کہ دُعا کے لوازمات سے اول ضرور ی یہ ہے کہ اعمالِ صالحہ اور اعتقاد پیداکریں۔ کیونکہ جو شخص اپنے اعتقادات کو دُرست نہیں کرتا اور اعمال صالحہ سے کام نہیں لیتا او ردُعا کرت اہے، وہ گویا خداتعالیٰ کی آزمائش کرتا ہے۔ تو بات یہ ہے کہ اِھْدِنَاالصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ کی دُعا میں یہ مقصود ہے کہ ہامرے اعمال کو اکمل اور اتم کر اور پھر یہ کہہ کر کہ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ اور بھی صراحت کردی کہ ہم اس صراط کی ہدایت چاہتے ہیں جو منعم علیہ گروہ کی راہ ہے اور مغضوب گروہ کی راہ سے بچا۔ جن پر بداعمالیوں کی وجہ سے عذابِ الہٰی آگیا او رالضالین کہہ کر یہ دعا تعلیم کی کہ اس سے بھی محفوظ رکھ کر تیری حمایت کے بُدوں بھٹکتے پھریں۔ ایک اور بات یادرکھنے کے قابل ہے کہ اس جگہ لف و نشر مرتب ہے۔ اول اَلْحَمْدُلِلّٰہِ کہ اللہ مستجمع جمیع صفات کاملہ۔ ہر ایک خوبی کو اپنے اندر رکھنے والا اور ہر ایک عیب اورنقص سے منزّہ ہے۔ دوم رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ سوم اَلرَّحْمٰن۔چہارم اِلرَّحِیْم۔ پنجم مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ۔ اب اس کے بعد جو درکواستیں ہیں وہ ان پانچوں کے ماتحت ہیں۔ اب سلسلہ یوُں شروع ہوتا ہے۔ اِیَّاکَ نَعْبُدُ یہ فقرہ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ کے مقابل ہے۔ یعنی اے اللہ تو جو ساری صفاتِ حمیدہ کا جامع ہے اور تمام بدیوں سے منزہ ہے۔ تیری ہی عبادت کرتے ہیں۔ مسلمان اس خدا کو جانتا ہے، جس میں وہ تمام خوبیاں جو انسانی ذہن میں آسکتی ہیں موجود ہیں اور اس سے بالا تر اور ارفع ہے کیونکہ یہ سچی بات ہے کہ انسانی عقل اور فکر اور ذہن خداتعالیٰ کی ذات کا احاطہ ہرگز ہرگز نہیں کرسکتے۔ ہاں تو مُسلمان ایسے کامل ا لصفات خداکو مانتا ہے کہ تمام قومیں مجلسوں میں اپنے خدا کا ذکرکرتے ہوئے شرمندہ ہوجاتی ہیں اور اُنہیں شرمندہ ہونا پڑتا ہے۔ ہندوئوں کے نزدیک خدا کا تصور مثلاً ہندوئوں کا خدا جو اُنہوں نے مانا ہے او رکہا ہے کہ ویدوں سے ایسے خدا ہی کا پتہ لگتاہے۔ جب اُس کی نسبت وہ یہ ذکر کریں گے کہ اُس نے دُیا کا ایک ذرہ بھی پیدا نہیں کیا اور نہ اس سے روحوں کو پیدا کیا ہے، تو کیا ایسے خدا کے ماننے والے کے لئے کوئی مضررہ سکتا ہے۔ جب اُسے کہا جائے کہ ایسا خدا اگر مرجائے، تو کیا حرج ہے، کیونکہ جب یہ اشیاء اپنا وجود مستقل رکھتی ہیں اور قائم بالذات ہیں۔ پھر خداکی زندگی اور بقاکے لئے کیا ضرور