کھاتا رہا، یہ لیکن یہ کہاں سے نکلے گا کہ ان کو طاقت نصیب ہوئی۔ وہ نبی بیشک سچے ہیں۔لیکن ان کے ہر قسم اخلاق ثابت نہیں۔چونکہ ان کا ذکر قرآن میںآگیا، اس لیے ہم ان کو نبی مانتے ہیں۔والاانجیل میں تو ان کا کوئی ایسا خلق ثابت نہیں۔ جیسے اولوالعزم انبیاء کی شان ہوتی ہے۔ ایسا ہی ہمارے ہادی کامل بھی اگرابتدائی تیرہ برس کی مصائب میں مر جاتے،تو ان کے اوربہت سے اخلاق فاضلہ مسیح کی طرح ثابت نہ ہوتے، لیکن دوسرا زمانہ جب فتح کا آیا اور مجرم آپؑ کے سامنے پیش کیے گئے تو اس سے آپؑ صفت رحم اور عفو کا کامل ثبوت ملا اور اس سے یہ ظاہر ہے کہ آپ کے کام کوئی جبر پر نہ تھے۔ نہ زبردستی تھی، بلکہ ہر ایک امر اپنے طبعی رنگ میں ہوا۔اسی طرح آپؑ کے اور بہت سے اخلاق بھی ثابت ہیں ۔سو اللہ تعالی نے یہ جو فرمایا کہ:نَحْنُ اَوْلِیَآوُکُمْ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَفِی الْاٰخِرَۃِ(حم السجدہ۳۲ )کہ ہم اس دنیا میں بھی اور آئندہ بھی متقی کے ولی ہیں سو یہ آیت بھی ان نادانوں کے ہے۔جنھوں نے اس زندگی میں نزول ملائکہ سے انکار کیا۔اگر نزع میں نزول ملائکہ تھا،تو حیٰوتہ الدنیا میں کیسے ولی ہوا۔
متقی کو آئندہ زندگی یہیں دکھلائی جاتی ہے
سویہ ایک نعمت ہے کہ ولیوں کو خدا کے فرشتے نظر آتے ہیں۔آئندہ کی زندگی محض ایمانی ہے،لیکن ایک متقی کوآئندہ کی زندگی یہیں دکھلائی جاتی ہے ۔انہیں اسی زندگی میں خدا ملتا ہے،نظرآتا ہے اور ان سے باتیں کرتا ہے۔سو اگر ایسی صورت کسی کو نصیب نہیں ،تواس کا مرنا اور یہاں سے چلے جانا نہایت خراب ہے ایک ولی کا قول ہے کہ جس کو ایک سچا خواب عمر میں نصیب نہیں ہوا۔اس کا خاتمہ خطر ناک ہے جیسے کہ قرآن مومن کے یہ نشان ٹھراتا ہے۔سنو!جس میں یہ نشان نہیں اس میں تقویٰ نہیں۔سو ہم سب کی یہ دعا چاہیے کہ یہ شرط ہم میں پوری ہو۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہام ،خواب،مکاشفات کا فیضان ہو،کیونکہ مومن کا یہ خاصہ ہے۔سو یہ ہونا چاہیے۔
بہت سی اور بھی برکات ہیں جو متقی کو ملتی ہیں۔مثلاً سورۃ فاتحہ میں جو قرآن کے شروع میں ہی ہے۔اللہ تعالیٰ مومن کو ہدایت کرتا ہے کہ وہ دعا مانگیں :اِھْدِنَاالصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرَالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَا الضَّآلِّیْنَ۔(الفاتحہ۸۔۶)یعنی وہ راہ سیدھی بتلا ان لوگوں کی جن پر تیرا انعام وفضل ہے۔یہ اس لئے سکھلائی گئی کہ انسان عالی ہمت ہو کر اس سے خالق کا منشاء سمجھے اور وہ یہ ہے کہ یہ امت بہائم کی طرح زندگی بسر نہ کرے،بلکہ اس کے تمام پردے کھل جاویں ۔جیسے کہ شیعوں کا عقیدہ ہے کہ دلایت بارہ اماموں کے بعد ختم ہو گئی۔بر خلاف اس کے اس دعا سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ خدا نے پہلے سے ارادہ کر رکھا ہے کہ جو متقی ہو اور خدا کے منشاء کے مطابق ہو ،تو وہ ان مراتب کو حاصل کر سکے جو انبیاء اور صفیاء کو حاصل ہوتے ہیں۔اس سے یہ بھی پایا جاتا ہے کہ انسان کو بہت سے قویٰ ملے ہیں ۔جنہوں نے نشوونما پانا ہے اور بہت ترقی کرنا ہے۔ہاں ایک بکرا چونکہ انسان نہیں ،اس کے قویٰ ترقی نہین کر سکتے ۔عالی ہمت انسان جب رسولوں اور انبیا کے حالات سنتا ہے کہ وہ انعامات جو اس پاک جماعت کو حاصل ہوئے اس پر نہ صرف