ر کچھ مختصر سی بحث کی جائے۔
دیکھو ایک بچہ بھوک سے بیتاب اور بے قرار ہوکر دودھ کے لیے چالتا ہے اور چیختا ہے، تو ماں کی پستان میں دُودھ جوش مارکر آجاتا ہے؛ حالانکہ بچہ تو دُعا کا نام بھی نہیں جانتا، لیکن یہ کیا سبب ہے کہ اُس کی چیخیں دُودھ کو جذب کرلیتی ہیں ۔ یہ ایک ایسا امرہے کہ عموماً ہر ایک صاحب کو اس کا تجربہ ہے۔ بعض اوقات ایسا دیکھا گیا ہے کہ مائیں اپنی چھاتیوں میں دُودھ کو محسوس بھی نہیں کرتی ہیں اور بسااوقات ہوتا بھی نہیں، لیکن جونہیں بچہ کی درد ناک چیخ کان میں پہنچتی ، فوراً دُودھ اُتر آیا ہے۔ جیسے بچہ کی ان چیخوں کو دُودھ کے جذب اور کشش کے ساتھ ایک علاقہ ہے۔ مَیں سچ کہتا ہوں کہ اگر اللہ تعالیٰ کے حضور ہماری چلاہٹ ایسی ہی اضطراری ہوتو وہ اُس کے فضل اور رحمت کو جوش دلاتی ہے اور اس کو کھینچ لاتی ہے اور مَیں اپنے تجربہ کی بنا پر کہتا ہوں کہ خداکے فضل اور رحمت کو جوش دلاتی ہے اور اس کو کھینچ لاتی ہے اور مَیں اپنے تجربہ کی بنا پر کہتاہوں کہ خدا کے فضل اور رحمت کو جو قبولیت دُعا کی صورت میں آتا ہے، میں نے اپنی طرف کھینچتے ہوئے محسوس نہ کرسکیں یا نہ دیکھ سکیں تو یہ صداقت دُنیا سے اُٹھ نہیں سکتی اور خصوصاً ایسی حالت میں جب کہ مَیں قبولیت دُعا کا نمونہ دکھانے لئے ہر وقت تیار ہوں۔
توعرض یہ ہے کہ قانوں قدرت میں قبولیت دعا کی نظریں موجود ہیں اور ہرزمانہ میں خداتعالیٰ زندہ نمونے بھیجتا ہے۔ اسی لئے اس نے اِھْدِنَاالصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ (الفاتحہ:۶،۷) کی دُعا تعلیم فرمائی ہے۔ یہ خداتعالیٰ کا منشاء اور قانون ہے اور کوئی نہیں جو اس کو بدل سکے اھدنا الصراط المستقیم کی دُعا سے پایا جاتا ہے کہ ہمارے اعمال کو اکمل اور اَتم کر۔ ان الفاظ پرغورکرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ بظاہرتواشارۃ النص کے طور پر اس سے دُعا کرنے کا حکم معلوم ہوتا ہے۔ صراط مستقیم کی ہدایت مانگنے کی تعلیم ہے ، لیکن اس کے سر پر اِیَّاکَ نَعْبُدُوَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنَ (الفاتحہ:۵) بتارہا ہے کہ اس سے فائدہ اُٹھائیں۔ یعنی صراطِ مستقیم کے منازل کے لئے قوائے سلیم سے کام لے کر استعانتِ الہٰی کو مانگنا چاہیے۔ پس ظاہری اسباب کی رعایت ضروری ہے۔ جو اس کو چھوڑتا ہے، وہ کافرِ نعمت ہے۔ دیکھو! یہ زبان جو خداتعالیٰ نے پیدا کی ہے اور عروق و اعصاب سے اس کو بنایا ہے۔ اگر ایسی ہ ہوتی ، تو ہم بول نہ سکتے۔ ایسی زبان دُعا کے لیے عطاکی جو قلب کے خیالات اور ارادوں کوظاہر کرسکے(اگر ہم دُعا کا کام زبان سے کبھی نہ لیں، تو ہماری شوربختی ہے۔ بہت سی بیماریاں ایسی ہیں کہ اگر وُہ زبان کو لگ جائیں تو وہ یکدفعہ ہی کام چھوڑ بیٹھتی ہے) یہ رحیمیّت ہے۔ ایسا ہی قلب میں خشوع وخضوع کی حالت رکھی اور سوچنے اور تفکر کی قوتیں ودیعت کی ہیں۔ پس یادرکھو۔ اگر ہم ان قوتوں اور طاقتوں کو معطل چھوڑ کردعا کرتے ہیں، تو یہ دُعا کچھ بھی مفید اور کارگر نہ ہوگی۔ کیونکہ جب پہلے عطیہ سے کچھ کام نہیں لیا، تو دوسرے سے کیا نفع اُٹھائیں گے، اس لئے اِھْدِنَاالصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ سے پہلے ایاک نعبد بتارہا ہے کہ ہم نے