سے اس کی پردہ پوشی فرماتا ہے۔ رحمانیت اور رحیمیت میں فرق یہ ہے کہ رحمانیت میں فعل ور عمل کو کوئی دخل نہیں ہوتا، مگر رحیمیت میں فعل وعمل کو دخل ہے۔ لیکن کمزوری بھی ساتھ ہی ہے۔ خدا کا رحم چاہتا ہے کہ پردہ پوشی کرے۔ اسی طرح مالک یوم الدین وہ ہے کہ اصل مقصد کوپورا کرے۔ خوب یادرکھو کہ یہ اُمہات الصفات رُوحانی طور پر خدانما تصویر ہیں۔ ان پر گور کرتے ہی معاً خدا سامنے ہوجاتا ہے اور رُوح ایک لذت کے ساتھ اُچھل کر اپس کے سامنے سربسجود ہوجاتی ہے؛ چنانچہ اَلْحَمْدُلِلّٰہسے جو شروع کیاگیا تھا ، تو غائب کی صورت میں ذکر کیا ہے، لیکن ان صفات اربعہ کے بیان کے بعد معاً صورت بیان تبدیل ہوگئی ہے،کیونکہ ان صفات نے خدا کو سامنے حاضرکردیا ہے۔ اس لئے حق تھا اور فصاحت کا تقاضہ تھا کہ اب غائب نہ رہے بلکہ حاضر کی صورت اختیار کی جائے۔ پس اس دائرہ کی تکمیل کے تقاضہ نے مخاطب کی طرف منہ پھیرا اور اِیَّاکَ نَعْبُدُوْ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنَ (الفاتحہ:۵) کہا یادرکھنا چاہئے کہ اِیَّاکَ نَعْبُدُوْ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنَ میں کوئی فاصلہ نہیں ہے۔ ہاں اِیَّاکَ نَعْبُدُو میں ایک قسم کاتقدمِ زمانی ہے کیونکہ جس حال میں محض اپنی رحمانیت سے بغیرہماری دُعا اور درخواست کے ہمیں انسان بنایا اور انواع و اقسام کی قوتیں اور نعمتیں عطافرمائیں۔ اس وقت ہماری دُعا نہ تھی بلکہ محض اس کا فضل ہمارے شاملِ حال تھا اور یہ تقدم ہے۔
رحمانیت اور رحیمیت مَیں پھر بیان کرتا ہوں اور یہ بات یادرکھنے کے قابل ہے کہ رحم دو قسم کا ہوتا ہے۔ اول رحمانیت اور دوسرا رحیمیت کے نام سے مُوسوم
ہے۔ رحمانیت تو ایس افیضان ہے کہ جو ہمارے وجود اور ہستی سے بھی پہلے شروع ہوا۔مثلاً اللہ تعالیٰ نے ہمارے وجود سے پیشتر ہی زمین و آسمان ، چاند وسورج اور دیگر اشیاء ارضی وسماوی پیداکی ہیں، جو سب کی سب ہمارے کام آنے والی ہیں اور کام آتی ہیں۔ دُوسرے حیوانات بھی اُن سے فائدہ اُٹھاتے ہیں۔ مگر وہ جب کہ بجائے خود انسان ہی کے لئے مفید ہیں اور انسان ہی کے کام آتے ہیں۔ تو گویا مجموعی طور پر انسان ہی اُن سب سے فائدہ اُٹھانے والا ٹھہرا۔ دیکھو جسمانی اُمور مٰں کیسی اعلیٰ درجہ کی غذائیں کھاتا ہے۔ اعلیی درجہ کاگوشت انسان کے لئے ہے۔ ٹکڑے اور ہڈیاں کتوں کے واسطے جسمانی طور پر تو کسی حد تک حیوان بھی شریک ہیں، مگر رُوحانی لذات میں جانور شریک نہیں ہیں۔ پس یہ دو قسم کی رحمتیں ہیں۔ ایک وہ جو ہمارے وجود سے پہلے ہی عطا ہوتی ہیں اور دوسری وہ جو رحیمیت کی شان کے نمونے ہیں اور وہ دُعا کے بعد پیدا ہوتے ہیں اور اُن میں ایک فعل کی ضرورت ہوتی ہے۔
دُعا اور قانونِ قدرت کا باہمی تعلق یہاں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس امر کو بیان کردیا جائے کہ قانونِ قُدرت میں ہمیشہ دُعا کا
تعلق ہے۔ آج کل کے نیچری طبع لوگ جو علوم حقہ سے محض بے خبراور ناواقف ہیں اور اُن کی ساری تگ ودو کا نتیجہ یورپ کے طرزِ معاشرت کی نقل اُتارنا ہے، دُع اکو ایک بدعت سمجھتے ہیں۔ اس لئے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ دُعا کے تعلق پ