جوبقائے وجود کے لئے ضروری ہیں۔ دیکھو چاند، سورج، ہوا،پانی وغیرہ بدوں ہماری دُعا ور التجاکے اور بغیرہمارے کسی عمل اور فعل کے اس نے ہمارے وجود کے بقاکے لئے کام میں لگا رکھے ہیں اور پھر رحیمیت یہ ہے کہ اعمال کو ضائع نہ کرے اور مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِکا تقاضا یہ ہے کہ بامراء کردے۔ جیسے ایک شخص امتحان کے لئے بہت محنت سے تیاری کرتا ہے، مگر امتحان میں دوچار نمبروں کی کمی رہ جاتی ہے، تو دنیوی نظام اور سلسلہ میں تو اس کا لحاظ نہیں کرتے اور اس کو گرادیتے ہیں، مگر خداتعالیٰ کی رحیمیت اس کی پردہ پوشی فرماتی ہے اور اس کو پاس کرادیتی ہے۔ رحیمیت میں ایک قسم کی پردہ پوشی بھی ہوتی ہے۔ عیسائیوں کو خداذرہ بھی پردہ پوش نہیں ہے؛ ورنہ کفارہ کی کیا ضرورت رہتی؟ ایسا ہی آریوں کا خدانہ رب ہے نہ رحمان کیونکہ وہ تو بلا مُزد اور بلا عمل کچھ بھی کسی کو عطانہیں کرسکتا۔ یہانتک کہ دیدوں کے اصول کے موافق گناہ کرنا بھی ضروری معلوم دیتا ہے۔ مثلاً ایک شخص کو اگرکسی اُس کے عمل کے معاوضہ میں گائے کا دودھ دینا مطلوب ہے، تو بالمقابل یہ بھی ضرور ہے کہ کوئی برہمنی(اگر یہ روایت صحیح ہو)زِنا کرے تاکہ اس فسقِ وفحش کے بدلہ میں وہ گائے کی جون میں جائے اور اس عامل کو دودھ پالئے، خواہ وہ اس کا خاوند ہی کیوں نہ ہو۔ غرض جب تک ایسا سلسلہ نہ ہوگا ، کوئی عامل اپنے عمل کی جزاویدک ایشر کے خزانہ سے پانہیں سکتا، کیونکہ اس کا سارا سلسلہ جوڑتوڑ ہی سے چلتا ہے۔
مگراسلام نے وُہ خداپیش کیا ہے جو جمیع محامد کا سزا وار ہے اس لئے معطی حقیقی ہے وُہ رحمن ہے بدُوں عملِ عامل کے اپنا فضل کرنا ہے۔ پھر مالکیت یوم الدین جیسا کہ مَیں نے ابھی کہا ہے، بامراد کرتی ہے۔ دُنیا کی گورنمنٹ کبھی اس امر کا ٹھیکہ نہیں لے سکتی کہ ہر ایک بی اے پاس کرنے والے کو ضرور نوکری دے گی، مگر خداتعالیٰ کی گورنمنٹ، کامل گورنمنٹ اور الانتہاخزائن کی مالک ہے۔ اس کے حضور کوئی کمی نہیں۔ کوئی عمل کرنے والا ہو۔ وہ سب کو فائزالمرام کرتا ہے اور نیکیوں اور حسنات کے مقابلہ میں بعض ضعفوں اور سقموں کی پردہ پوشی بھی فرماتا ہے۔وہ تواب بھی ہے۔ مستحی بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ کو ہزار ہا عیب اپنے بندوں کو معلوم ہوتے ہیں، مگر ظاہر نہیں کرتا۔ ہاں ایک وقت ایسا آجاتا ہے کہ بیباک ہوکر انسان اپنے عیبوں میں ترقی پر ترقی کرتا جاتا ہے اور خداتعالیٰ کی حیا اور پردہ پوشی سے نفع نہیں اُٹھاتا، بلکہ دہریت کی رگ اس میں زور پکڑتی جاتی ہے۔ تب اللہ تعالیٰ کی غیرت تقاضا نہیں کرتی کہ اس بیباک کو چھوڑا جائے، اس لئے وہ ذلیل کیا جاتا ہے، مولوی عبداللہ صاحب غزنوی کو محمدحسین کی نسبت الہام ہواکہ اس میں کوئی عیب ہے۔ اس نے چاہا کہ وہ ظاہرکردیں، مگر انہوں نے یہی کہا کہ اللہ تعالیٰ کی حیامانع ہے۔ پھر انہوں نے اس کی نسبت ایک رؤیامیں دیکھا کہ اس کے کپڑے پھٹ گئے ہیں؛ چنانچہ اب وہ رؤیا پوری ہوگئی۔
غرض میرا مطلب تو صرف یہ تھا کہ رحیمیت میں ایک خاصہ پردہ پوشی کا بھی ہے، مگر اس پردہ پوشی سے پہلے یہ بھی ضروری ہے کہ کوئی عمل ہو اور اس عمل کے متعلق اگر کوئی کمی یا نقص رہ جائے، تو اللہ تعالیٰ اپنی رحیمیت