جواب نہ دے سکے۔ اس کی کیا وجہ ہے؟ یہی کہ وہ لوگ یہاں نہیں آتے اور اُن باتون کو نہیں سنتے جو خداتعالیٰ اپنے سلسلہ کی تائیدمیں علمی طورپرظاہرکررہا ہے۔
پس اگر تم واقعی اس سلسلہ کو شناخت کرتے ہو اور خداپرایمان لاتے ہو اور دین کو دُنیا پر مقدم کرنے کا سچا وعدہ کرتے ہو، تو مَیں پوچھتا ہوں کہ اس پرعمل کیا ہوتا ہے کیا کُوْنُوْ امَعَ الصَّادِقِیْنَ (التوبہ:۱۱۹) کا حکم منسوخ ہوچکا ہے؟ اگر تم واقعی ایمان لاتے ہو اور سچی خوش قسمتی یہی ہے۔ تو اللہ تعالیٰ کو مقدم کرلو۔ اگر ان باتوں کوردی اور فضول سمجھو گے تویادرکھو خداتعالیٰ سے ہنسی کرنے والے ٹھہرو گے۔
سورۃ فاتحہ میں قرآنِ کریم کے تمام معارف درج ہیں سورۃ فاتحہ پر جو قرآن شریف کا باریک نقشہ ہے
اور ام الکتاب بھی جس کا نام ہے، خوب غورکرو کہ اس میں اجمال کے ساتھ قرآن کریم کے تمام معارف درج ہیں؛ چنانچہ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ سے اس کو شروع کیا گیا ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ تمام محامداللہ ہی کے لئے ہیں۔ اس میں یہ تعلیم ہے کہ تمام منافع اور تمدنی زندگی کی ساری بہبودگیاں اللہ ہی کی طرف سے آتی ہیں، کیونکہ ہر قسم کی ستائش کا مستحق بھی وہ نہیں ہے، جوکفر کی بات ہے۔ پس الحمدللہ میں کیسی توحید کی جامع تعلیم پائی جاتی ہے، جو انسان کودنیا کی تمام چیزوں کی عبودیت اور بالذات نفع ر سان نہ ہونے کی طرف لے جاتی ہے اور واضح اور بین طور پر یہ ذہن نشین کرتی ہے کہ ہر نفع اور سود حقیقی اور ذاتی طور پر خداتعالیٰ ہی کی طرف سے آتا ہے۔کیونکہ تمام محامد اسی کے لئے سزا وار ہیں۔ پس ہر نفع اور سود میں خداتعالیٰ ہی کو مقدم کرو۔ اس کے سوا کوئی کام آنے والا نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کی رضا کے اگر خلاف ہوتو اولا دبھی دشمن ہوسکتی ہے۔ اور ہوجاتی ہے۔
اللہ تعالیٰ کی اُمہاتُ الصفات پھر اسی سورۃ فاتحہ میں خداکا نقشہ دکھایاگیا ہے، جوقرآن کریم منوانا چاہتا ہے اور جس کو وہ دُنیا کے
سامنے پیش کرتا ہے۔ چنانچہ اس کی چار صفات کو ترتیب وار بیان کیا ہے جو اُمہات الصفات کہلاتی ہیں۔جیسے سورۂ فاتحہ اُمّ الکتاب ہے، ویسے ہی جو صفات اللہ تعالیٰ کی اس میں بیان کی گئی ہیں۔ وہ بھی اُم الصفات ہی ہیں اور وہ یہ ہیں…رَبِّ الْعَالَمِیْنَ، اَلرَّحْمٰنِ ، الرَّحِیْمِ، مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ۔ ان صفات اربعہ پرغورکرنے سے خداتعالیٰ کا گویا چہرہ نظر آجاتا ہے۔ ربوبیت کا فیضان بہت ہی وسیع اور عام ہے اوراس میں کل مخلوق کی کل حالتوں تربیت اور اس کی تکمیل کے تکلف کی طرف اشارہ ہے۔ غورتوکرو۔ جب انسان اللہ تعالیٰ کی ربوبیت پر سوچتا ہے، تو اس کی امید کس قدروسیع ہوجاتی ہے اور پھر رحمانیت یہ ہے کہ بُدوں کسی عملِ عامل کے اُن اسباب کو مہیاکرتا ہے۔