اُٹھائیں۔ابوجہل اور ابولہب میں کیا تھا؟یہی بے صبری اور بے قراری تو تھی۔ کہتے تھے کہ تو خدا کی طرف سے آیا ہے تو کوئی نہر لے آ۔ ان کم بختوں سے صبر نہ کیا اور ہلاک ہوگئے؛ ورنہ زبیدہ والی نہر تو آہی گئی۔ اسی طرح پر ہمارے مخالف بھی کہتے ہیں کہ ہمارے لئے دُعا کرو اور وہ معاً قبول ہوجائے اور پھر اس کو حق وباطل کا معیار ٹھہراتے ہیں اور اپنی طرف سے بعض اُمور پیش کرکے کہتے ہیں کہ یہ ہوجائے اور وُہ ہوجائے ، تو مان لیں گے لیکن آپ کسی شرط کے نیچے ہیں آئے۔ افسوس یہی لوگ ہیں جو لَایُخَافُ عُقْبَہٰھَا (الشمس:۱۴) کے مصداق ہیں۔ یادرکھوصابر ہی شرح صدر کا رتبہ پاتا ہے۔ جو صبر نہیں کرتا، وُہ گویا خدا پر حکومت کرتا ہے۔ خود اس کی حکومت میں رہنا نہیں چاہتا۔ ایسا گُستاخ اور دلیرجو خداتعالیٰ کے جلال اور عظمت سے نہیں ڈرتا وہ محروم کردیاجاتا ہے اور اُسے کاٹ دیا جاتا ہے۔ صحبت صادقین پھر یہ بات بھی یادرکھنی چاہیے کہ صبر کی حقیقت میں سے یہ بھی ضروری بات ہے کُوْنُوْ امَعَ الصَّادِقِیْنَ(توبہ:۱۱۹) صادقوں کی صحبت میں رہنا ضروری ہے۔ بہت سے لوگ ہیں جو دُور بیٹھ رہتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ کبھی آئیں گے، اس وقت فرصت نہیں ہے۔ بھلا تیرہ سو سال کے موعود سلسلہ کو جو لوگ پالیں اور اُس کی نصرت میں شامل نہ ہوں اور خدا اور رُسولؐ کے موعود کے پاس نہ بیٹھیں، وہ فلاح پاسکتے ہیں؟ ہرگز نہیں ؎ ہم خدا خواہی وہم دُنیائے دوں ایں خیال است و محال است وجنوں دین تو چاہتا ہے کہ مصاحبت سے گریز ہوتو دینداری کے حُصول کی اُمید کیوں رکھتا ہے؟ ہم نے بارہا اپنے دوستوں کو نصیحت کی ہے اور پھر کہتے ہیں کہ وہ بار بار یہاں آکر رہیں اور فائدہ اُٹھائیں۔ مگر بہت کم توجہ کی جاتی ہے۔ لوگ ہاتھ میں ہاتھ دے کر دین کو دُنیا پرمقدم کرلیتے ہیں، مگر اس کی پروا کچھ نہیں کرتے۔ یاد رکھو قبریں آوازیں دے رہی ہیں اور موت ہر وقت قریب ہوتی جاتی ہے۔ ہر ایک سانس تمہیں موت کے قریب کرتا جاتا ہے اور تم اُسے فرصت کی گھڑیاں سمجھتے جاتے ہو۔ اللہ تعالیٰ سے مکرکرنا مومن کا کام نہیں ہے۔ جب موت کا وقت آگیا پھر ساعت آگے پیچھے نہ ہوگی۔ وہ لوگ جو اس سلسلہ کی قدر نہیں کرتے اور انہیں کوئی عظمت اس کی معلوم ہی نہیں ان کو جانے دو۔ مگر ان سب سے بڑھ کر بدقسمت اور اپنی جان پر ظلم کرنے والاتو وہ ہے جس نے اس سلسلہ کو شناخت کیا اور اُس میں شامل ہونے کی فکر کی۔ لیکن اُس نے کچھ قدر نہ کی۔ وہ لوگ جو یہاں آکر میرے پاس کثرت سے نہیں رہتے اور اُن باتوں سے جو خداتعالیٰ ہر روز اپنے سلسلہ کی تائید میں ظاہر کرتا ہے نہیں سُنتے اور دیکھتے۔ وہ اپنی جگہ کیسے ہی نیک اور متقی اور پرہیز گار ہوں۔ مگر میں یہی کہوں گا کہ جیسا چاہیے۔ انہوں نے قدر نہیں کی۔ مَیں پہلے کہہ چکا ہوں کہ تکمیل علمی کے بعد تکمیلِ عملی کی ضرورت ہے۔ پس تکمیل عملی بدُوں تکمیل علمی کے مُحال ہے اور جب تک یہاں آکر نہیں رہتے۔ تکمیل علمی مشکل ہے۔ بارہا خطوط آتے ہیں کہ فلاں شخص نے اعتراض کیا او رہم