مَیں روشنی کی طرف آتا ہوں ۔ کیونکہ خداتعالیٰ کے بے شمار نشان میری تائید میں ظاہر ہوچکے ہیں اور ہورہے ہیں۔بارش کی طرح یہ نشان آسمان سے اُتر رہے ہیں۔ تو پھر یہ بھی یقینی امر ہے کہ میرے مخالف تاریکی کی طرف جاتے ہیں۔ روشنی اور نورُ رُوح القدس کو لات اہے اور تاریکی شیطان کی قربت پیداکرتی ہے او راس طرح پرولی کی مخالفت سلب ایمان کردیت ہے۔ اور بئس القرین سے جاملاتی ہے۔ مدعا یہ ہے کہ اصلاح تب ہوتی ہے کہ تکمیل عملی کے مراتب حاصل ہوجائیں۔ پس سورۃ العصر میں جواِلَّاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْ اوَعَمِلُوْاالصّٰلِحٰتِ فرمایا ہے۔ اس میں اٰمَنُوْا سے تکمیل علمی کی طرف ارشاد فرمایا۔ اور عَمِلُو االصّٰلِحٰتِ سے تکمیل عملی کی طرف رہبری کی حکمت کے بھی دوہی حصے ہیں۔ ایک علم اکمل اور اتم ہو۔ دُوسرے عمل اتم اور اکمل ہو۔ وتَوَاصَوْ ابِالْحَقِّ پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو لوگ خسر سے محفوظ رہتے ہیں۔ اول وہ تکمیل علمی کرتے ہیں اور پھر عمل بھی گندے نہیں کرتے بلکہ علمی تکمیل کو عملی تکمیل تک پہنچاتے ہیں اور پھر یہ کہ جب انہیں کامل بصیرت حاصل ہوجاتی ہے اور ان کے کمال علم کا ثبو ت کمال ِ عمل سے ملتا ہے تو پھر وہ بخل نہیں کرتے، بلکہ وتو اصوا بالحق پر عمل کرتے ہیں۔ لوگوں کو بھی اس حق کی دعوت کرتے ہیں، جو انہوں نے پایا ہے۔ اس کے یہ معنی بھی ہیں کہ اعمال کی روشنی بھی دکھاتے ہیں۔ وعظ اگر خود عمل نہیں کرتا ،تو اس کی باتوں کا کچھ بھی اثر نہیں پڑسکتا۔ یہ بھی قاعدہ کی بات ہے کہ اگر خود آدمی کہے اور کرے نہیں، تو اس کا بہت بُرا اثر پڑتا ہے۔ اگر زنا کارزنا سے منع کرے ، تو اُس کی اس حالت کے ثابت ہوجانے پر سننے والوں کے دہر یہ ہوجانے کا اندیشہ ہے، کیونکہ وہ خیال کریں گے کہ اگر زنا کاری واقعی خطرناک چیز ہوتی اور خداتعالیٰ کے حضور اس ناپاکی پر سز املتی اور خداواقعی ہوتا، تو پھر یہ جع منع کرتاتھا، خود کیوں اس سے پرہیزنہ کرتا۔ مجھے معلوم ہے کہ ایک شخص ایک مولوی کی صحبت کے باعث مسلمان ہونے لگا۔ ایک روز اُس نے دیکھا کہ وہی مولوی شراب پی رہا ہے تھا، تو اس کا دل سخت ہوگیا اور وُہ رُک گیا۔غرض تَوَاصَوْ ابِالْحَقِّ میں یہ فرمایا کہ وہ اپنے اعمال کی روشنی سے دوسروں کو نصیحت کرتے ہیں۔ وَتَوَاصَوْابِالْصَبْرِ اور پھر ان کا یہ شیوہ ہوتا ہے۔ تَوَاصَوْابِالْصَبْرِ یعنی صبر کے ساتھ وعظ ونصیحت کا شیوہ اختیار کرتے ہیں۔ جلدی جھاگ مُنہ پر نہیں لاتے۔ اگر کوئی مولوی اور پیش رو ہوکر، امام اور رہنما بن کر جلدی بھڑک اُٹھتا ہے اور اس میں برداشت اور صبر کی طاقت نہیں تو وہ لوگوں کو کیوں نقصان پہنچاتا ہے؟ دُوسرے یہ بھی مطلب ہے کہ جو باتیں سننے والا صبرسے نہ سُنے، وہ فائدہ نہیں اُٹھاتا۔ ہمارے مخالف بُردباری کا دل لے کر نہیں آتے اور صبر سے اپنی مشکلات پیش نہیں کرتے، بلکہ اُن کا تو یہ حال ہے کہ وہ کتاب تک تو دیکھنا نہیں چاہتے اور شورمچاکر حق کو ملبس کرنے کی سعی کرتے ہیں۔ پھر وُہ فائدہ اُٹھائیں توکیونکر