میں دی گئی ہے۔ بڑھتے ہیں اور پھل پھول لاتے ہیں۔ ایک خاص قسم کی حلاوت اور ذائقہ اُن میں پیدا ہوتا ہے۔پاس اگر کوئی شخص اپنے ایمان میں نشوونما کا مادہ نہیںرکھتا، بلکہ اس کا ایمان مُردہ ہے، تو اس پر اعمالِ صالحہ کے طیب اشجار کے بارورہونے کی کیا اُمید ہوسکتی ہے؟ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے سورۂ فاتحہ میںصِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِم (الفاتحہ:۷) کہ کر ایک قیدلگادی ہے۔یعنی یہ راہ کوئی بے ثمراور حیران اور سرگردان کرنے والی نہیں ہے، بلکہ اس پر چل کر انسان بامراد اور کامیاب ہوتا ہے اور عبادت کیلئے تکمیل عملی ضروری شے ہے؛ ورنہ وہ محض ایک کھیل ہوگا ، کیونکہ درخت اگر پھل نہ دے، خواہ وہ کتنا ہی اُونچا کیوں نہ ہو۔ مفید نہیں ہوسکتا۔ مامُورمن اللہ کے مخالفوں کا ایمان سَلب ہوجاتاہے ہمارے مخالفوں کی حالت ایسی ہے۔ جس سے سلبِ ایمان کا اندیشہ ہے۔ کیونکہ وہ نیک کو بُرااور مامُورمن اللہ کوکذاب سمجھتے ہیں۔ جس سے خداتعالیٰ کے ساتھ ایک جنگ شروع ہوجاتی ہے۔ اور اب یہ صاف امر ہے کہ خداتعالیٰ نے مجھے مامور اور مسیح موعُود کے نام سے دُنیا میں بھیجا ہے جو لوگ میری مخالفت کرنے والے ہیں وہ میری نہیں خداتعالیٰ کی مخالفت کرتے ہیں۔ کیونکہ جب تک مَیں نے دعویٰ نہ کیاتھا۔ بہت سے اُن میں سے مجھے عزت کی نگاہ سے دیکھتے تھے اور اپنے ہاتھ سے لوٹالے کر وضوکرانے کو ثواب اور فخرجانتے تھے اور بہت سے ایسے بھی تھے جو میری بیعت میں آنے کے لئے زور دیتے تھے، لیکن جب خدا تعالیٰ کے نام اور اعلام سے یہ سلسلہ شروع ہوا ، تو وہی مخالفت کے لئے اُٹھے۔ اس سے صاف پایا جاتا ہے کہ اُن کی ذاتی عداوت میرے ساتھ نہ تھی، بلکہ عداوت اُن کو خداتعالیٰ سے ہی تھی۔ اگر خداتعالیٰ کے ساتھ اُن کو سچا تعلق تھا، تو اُن کی دینداری اور اتقاء اور خداترسی کا تقاضا یہ ہوناچاہئے تھا کہ سب سے اول وہ میرے اس اعلان پر لبیک کہتے اور سجداتِ شکر کرتے ہوئے میرے ساتھ مصافحہ کرتے، مگر نہیں۔ وہ اپنے ہتھیاروں کو لے کر نِکل کھڑے ہوئے اور انہوں نے مخالفت کو یہاں تک پہنچایا کہ مجھے کافر کہا اور بے دین کہا۔ دجال کہا۔ افسوس ! ان احمقوں کو یہ معلوم نہ ہوا کہ جو شخص خداتعالیٰ سے قُلْ اِنِّیْ اُمِرْتُ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِیْنَ اور اَنْتَ مِنِّیْ بِمَنْزِلَۃِ تَوْحِیْدِیْ وَتَفْرِیْدِیْ کی آوازیں سنتا ہو۔وہ اُن کی بدگوئی اور گالیوں کی کیا پروا کرسکتا ہے۔ افسوس تو یہ ہے کہ ان نادانوں کو یہ بھی معلوم نہیں ہوا کہ کفر اور ایمان کا تعلق دُنیا سے نہیں بلکہ خداتعالیٰ کے ساتھ ہے۔ خداتعالیٰ میرے مومن اور ماموُر ہونے کی تصدیق کرتا ہے۔ پھر ان بیہودگیوں کی مجھے پروا کیا ہوسکتی ہے؟ غرض ان باتوں سے صاف پایاجاتا ہے کہ لوگ میرے مخالف نہ تھے بلکہ خداتعالیٰ کی باتوں کی انہوں نے مخالفت کی اور یہی وجہ ہے جس سے مامور من اللہ کے مخالفوں کا ایمان سلب ہوجاتا ہے۔ اب یہ صاف بات ہے کہ میرے مخالف خداتعالیٰ سے مخالفت کررہے ہیں۔ میں اگر روشنی کی طرف آرہا ہوں اور یہ یقینی امر ہے کہ