اور میرے پیچھے چلے آئو۔ یہ آواز نئی آواز نہیں ہے۔ مکہ کو بتوں سے پاک کرنے کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کہا تھا۔ قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنَیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ (آل عمران:۳۲) اسی طرح پر اگر تم میری پیروی کروگے، تو اپنے اندر کے بتوں کو توڑ ڈالنے کے قابل ہوجائوگے۔ تزکیۂ نفس کے لئے چلہ کشیوں کی ضرورت نہیں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے چلہ کشیاں نہیں کی تھیں۔ ارہ اور نفی واثبات وغیرہ کے ذکر نہیں کئے تھے، بلکہ اُن کے پاس ایک اور ہی چیز تھی۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت میںمحو تھے، جو نور آپؐ میں تھا۔ وُہ اس اطاعت کی نالی میں سے ہوکرصحابہؓ کے قلب پر گرتا اور ماسوی اللہ کے خیالات کو پاش پاش کرتا جاتا تھا۔ تاریکی کے باجئے اُن سینوں میں نور بھرا جاتا تھا۔ اس وقت بھی خوب یادرکھو۔ وہی حالت ہے جب تک کہ وہ نور جو خدا کی نالی میں سے آتا ہے تمہارے قلب پر نہیں گرتا۔ تزکیہ نفس نہیں ہوسکتا۔ انسان کا سینہ مہبط الانوار ہے اور اسی وجہ سے وہ بیت اللہ کہلاتا ہے۔ بڑا کام یہی ہے کہ اس میں جو بت ہیں۔ وہ توڑے جائیں اور اللہ ہی اللہ رہ جائے۔ حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اَللّٰہُ اَللّٰہُ فِیْ اَصْحَابِیْ۔ میرے صحابہؓ کے دلوں میں اللہ ہی اللہ ہے۔ دل میں اللہ ہی اللہ ہونے سے یہ مُراد نہیں کہ انسان وحدتِ وجود کے مسئلہ پر عمل کرے اور ہرکتے اور گدھے کو معاذ اللہ خداقراردے بیٹھے۔ نہیں نہیں۔ اس سے اصل غرض یہ ہے کہ انسان کا جو کام ہو اس میں مقصود فی الذات اللہ تعالیٰ ہی کی رضاہو نہ کچھ اور۔ اور یہ درجہ حاصل نہیں ہوسکتا۔ جب تک خداتعالیٰ کا فضل شاملِ حال نہ ہو۔ برکریماں کا رہادُشوارنیست قرآن کریم میں عِلمی اور عملی تکمیل کی ہدایت ہے پھر یہ بھی یادرکھنا چاہیے کہ قرآن کریم میں عملی اور علمی تکمیل کی ہدایت ہے ؛ چنانچہ اِھْدِنَا الصِّرَاطَ (الفاتحہ :۶) میں تکمیل علمی کی طرف اشارہ ہے اور تکمیل عملی کا بیان صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ (الفاتحہ:۷) میں فرمایا کہ جو نتائج اکمل اور اَتَم ہیں، وہ حاصل ہوجائیں ۔ جیسے ایک پودا جو لگایا گیا ہے۔ جب تک پورا نشوونما حاصل نہ کرے ، اس کو پھل پھول نہیں لگ سکتے۔ اسی طرح اگر کسی ہدایت کے اعلیٰ اور اکمل نتائج موجود نہیں ہیں۔ وہ ہدایت مُردہ ہدایت ہے۔ جس کے اندر کوئی نشوونما کی قوت اور طاقت نہیں ہے۔جیسے اگر کسی کو دید کی ہدایت پر پورا عمل کرنے سے کبھی یہ اُمید ہیں ہوسکتی کہ وہ ہمیشہ کی مکتی یا نجات حاصل کرلے گا اور کیڑے مکوڑے بننے کی حالت سے نکل کر دائمی سرور پالے گا، تو اس ہدایت سے کیا حاصل، مگر قرآن شریف ایک ایسی ہدایت ہے کہ اُس پر عمل کرنے والا اعلیٰ درجہ کے کمالات حاصل کرلیتا ہے اور خداتعالیٰ سے اس کا ایک سچا تعلق پیداہونے لگتا ہے۔یہاں تک کہ اُس کے اعمالِ صالحہ جو قرآنی ہدایتوں کے موافق کیے جاتے ہیں ۔وہ ایک شجرِ طیب کی مثال۔ جوقرآن شریف