لیکن اگرکوئی خلط بھی بڑھ جائے، تو جسم بیمارہوجاتاہے۔ اسی طرح رُوح کی صلاحیت کا مدار بھی اعتدال پر ہے۔ اسی کانام قرآن شریف کی اصطلاح میں الصراط المستقیم ہے۔ صلاح کی حالت میں انسان محض خداکاہوجاتاہے۔ جیسے حضرت ابوبکرصدیق ؓ کی حالت تھی۔ اور رفتہ رفتہ صالح انسان ترقی کرتاہوا مطئمنہ کے مقام پر پہنچ جاتا ہے اور یہاں ہی اس کا انشراح صدرہوتا ہے۔جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرکے فرمایا:اَلَمْ نَشْرَحْ لَکَ صَدْرَکَ (الم نشرح:۲) ہم انشراح صدر کی کیفیت کو الفاظ میں بیان نہیں کرسکتے۔
انسان کا سینہ بیت اللہ ہے اور دل حجراَسود یہ بات بحضورِ دل یادرکھو کہ جیسے بیت اللہ میں حجرِاسود پڑا ہو اہے۔ اسی طرح قلب
سینہ میں پڑاہوا ہے بیت اللہ پر بھی ایک زمانہ آیاہواتھا کہ کفار نے وہاں بُت رکھ دیئے تھے۔ممکن تھا کہ بیت اللہ پر یہ زمانہ نہ آتا۔ مگر نہیں اللہ نے اس کو ایک نظیر کے طورپررکھاقلبِ انسانی بھی حجرِ اسود کی طرح ہے اور اس کا سینہ بیت اللہ سے مشابہت رکھتا ہے۔ ماسویٰ اللہ کے خیالات وُہ بُت ہیں جو اس کعبہ میں رکھے گئے ہیں۔ مکہ معظمہ کے بتوں کا قلع قمع اس وقت ہواتھا جب کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دس ہزارقدوسیوں کی جماعت کے ساتھ وہاں جاپڑے تھے اور مکہ فتح ہوگیا تھا۔ ان دس ہزار صحابہ کو پہلی کتابوں میں ملائکہ لکھاہے اور حقیقت میں ان کی شان ملائکہ ہی کی سی تھی۔ انسانی قویٰ بھی ایک طرح ملائکہ ہی کا درجہ رکھتے ہیں کیونکہ جیسے ملائکہ کی یہ شان ہے کہ یَفْعَلُوْنَ مَایُوْمِرُوْنَ(النحل:۵۱) اسی طرح پرانسانی قویٰ کا خاصہ ہے کہ جو حکم ان کو دیا جائے، اُس کی تعمیل کرتے ہیں۔ ایسا ہی تمام قویٰ اور جوارح حکمِ انسانی کے نیچے ہیں۔ پس ماسوِیٰ اللہ کے بتوں کی شکست اور راستیصاں کے لئے ضروری ہے کہ اُن پر اسی طرح سے چڑھائی کی جائے۔ یہ لشکرتزکیہ ٔ نفس سے تیارہوتا ہے اور اسی کو فتح دی جاتی ہے جو تزکیہ کرتا ہے ؛ چنانچہ قرآن شریف میں فرمایا گیا ہے۔ قَدْاَفْلَحَ مَنْ زَکّٰھَا(الشمس:۱۰) حدیث شریف میں آیا ہے کہ اگر قلب کی اصلاح ہوجائے، تو کل جسم کی اصلاح ہوجاتی ہے۔ اور یہ کیسی سچی بات ہے آنکھ،کان ،ہاتھ،پائوں،زبان وغیرہ جس قدر اعضاء ہیں، وہ دراصل قلب کے ہی فتوے پر عمل کرتے ہیں۔ ایک خیال آتا ہے، پھر وُہ جس عضو کے متعلق ہو وُہ فوراً اس کی تعمیل کے لئے تیارہوجاتاہے۔
میری پیروی کرو اور میرے پیچھے چلے آئو غرض اس خانہ کو بتوں سے پاک وصاف کرنے لئے ایک جہاد کی ضرورت ہے اور
اس جہاد کی راہ میں تمہیں بتاتا ہوں اور یقین دلاتا ہوں۔ اگر تم اس پر عمل کروگے، توان بتوں کو توڑڈالوگے ور یہ راہ مَیں اپنی خورد تراشیدہ نہیں بتاتا۔ بلکہ خدانے مجھے مامورکیا ہے کہ مَیں بتائوں۔ اور وُہ راہ کیا ہے؟ میری پیروی کرو۔