یہ سنتے ہی اُن قصابوں نے فی الفورچھُریاں چلادیں اوریہ کہا کہ تم ہوکیا؟آخرگوہ کھانے والی بھیڑیں ہی ہو۔
غرض خداتعالیٰ متقی کی زندگی کی پرواہ کرتا ہے اور اس کی بقاء کو عزیز رکھتاہے اورجواُس کی مرضی کے برخلاف چلے وہ اس کی پروا نہیں کرتا او راُس کو جہنم میں ڈالتا ہے، اس لئے ہر ایک کو لازم ہے کہ اپنے نفس کو شیطان کی غلامی سے باہرکرے۔ جیسے کلوروفارم نیند لاتاہے، اسی طرح پرشیطان انسان کو تباہ کرتا ہے اور اسے غفلت کی نیند سُلاتا ہے اور اسی میں اس کو ہلاک کردیتاہے۔
سورۃ العَصْرِ میں دوسلسلوں کاذکر مَیں پھر اصل مطلب کی طرف رجوع کرکے کہتا ہوں کہ سورۂ العصرمیں دوسلسلوں کا ذکرفرمایا ہے۔
ایک ابرارواخیارکا سلسلہ ہے اور دُوسرا فجار کا۔ کفاراور فجارکے سلسلہ کاذکر یوں فرمایا۔اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍ(العصر:۳) اوردوسرے سلسلہ کو اس طرح پرالگ کیا۔اِلَّاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْ اوَعَمِلُوْاالصّٰلِحٰتِ (العصر) یعنی ایک وہ ہیں جو خُسران میں ہیں، مگر خسران میں مومن اور عملِ صالح کرنے والے نہیں ہیں۔ اس سے معلوم ہو اکہ خسران میں وہ ہیں جو مومن اور عملِ صالح کرنے والے نہیں ہیں۔ یادرکھو کہ صلاح کا لفظ وہاں آتا ہے، جہاں فساد کابالکل نام ونشان نہ رہے۔ انسان کبھی صالح نہیں کہلاسکتا جب تک وہ عقاید رویہ اور فاسدہ سے خالی نہ ہو اور پھر اعمال بھی فساد سے خالی ہوجائیں۔ متقی کا لفظ بابِ افتعال سے آتا ہے اوریہ باب تصنّع کے لئے آتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ متقی کو بڑا مجاہدہ اور کوشش کرنی پڑتی ہے اور اس حالت میں وہ نفسِ لوامہ کے نیچے ہوت اہے اور جب حیوانی زندگی بسرکرتاہے، اس وقت امارہ کے نیچے ہوت اہے اور مجاہدہ کی حالت سے نکل کر جب غالب آجاتا ہے، تومطمئنہ کی حالت میں ہوتا ہے۔ متقی نفسِ امارہ کی حالت سے نکل کر آتا ہے اور لوامہ کے نیچے ہوتا ہے۔ اسی لئے متقی کی شان میں آیا ہے کہ وہ نماز کو کھڑی کرتے ہیں۔ گویا اس میں بھی ایک قسم کی لڑائی ہی کی حالت ہوتی ہے۔ وساوس اور اوہام آآکر حیران کرتے ہیں، مگر وہ گھبراتا نہیں اور یہ وساوس اُس کو درماندہ نہیں کرسکتے۔ وہ باربار خداتعالیٰ کی استعانت چاہتا ہے اور خداکے حضور چلاتا اورروتا ہے، یہانتک کہ غالب آجاتا ہے۔ ایساہی مال کے خرچ کرنے میں بھی شیطان اس کو روکتا ہے اوراسراف اور انفاق فی سبیل اللہ کو یکساں دکھاتا ہے؛ حالانکہ ان دونوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ اسراف کرنے والا اپنے مال کو ضائع کرتا ہے، مگر فی سبیل اللہ خرچ کرنے والا اس کو پھر پاتا ہے اور خرچ سے زیادہ پاتا ہے۔ اس لئے ہی مِمَّارَزَقْنٰھُمْ یُنْفِقُوْنَ (البقرہ:۴)فرمایاہے۔
صراطِ مستقیم
بات یہ ہے کہ صلاح کی حالت میں انسان کو ضروری ہے کہ ہر ایک قسم کے فساد سے خواہ وہ عقائد کے متعلق ہو یا اعمال کے متعلق ، پاک ہو ، جیسے
انسان کا بدن صلاحیت کی حالت اس وقت رکھتا ہے، جبکہ سب اخلاط اعتدال کی حالت پرہوں اور کوئی کم زیادہ نہ ہو۔