جگہ فرمایا :اَلَآ اِنَّ اَوْ لِیَآئَ اللّٰہِ لَا خَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَلَا ھُمْ یَحْزَنُوْنَ(یونس:۶۳)یعنی جو اللہ کے ولی ہیں ان کو کوئی غم نہیں جس کا خدا متکفل ہو اس کو کوئی تکلیف نہیں ۔کوئی مقابلہ کرنے والا ضرر نہیں دے سکتا اگر خدا ولی ہو جائے ۔پھر فرمایا: وَاَلْبَشِرُوْا بِالْجَنَّۃِ الَّتِیْ کُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ:(حٰم سجدہ:۳۱) یعنی تم اس جنت کے لئے خوش ہو جس کا تم کو وعدہ ہے۔ قرآن کی تعلیم سے پایا جاتا ہے کہ انسان کے لئے دو جنت ہیں ۔جو شخص خدا سے پیار کرتا ہے کیا وہ ایک جلنے والی زندگی میں رہ سکتا ہے ؟جب اس جگہ ایک حاکم کا دوست دنیوی تعلقات میں ایک قسم کی بہشتی زندگی میں ہوتا ہے،تو کیوں نہ ان کے لئے دروازہ جنت کا کھلے جو اللہ کے دوست ہیں،اگرچہ دنیا پر از تکلیف و مصائہے،لیکن کسی کو کیا خبر کہ وہ کیسی لذت اٹھاتے ہیں ؟اگر ان کو رنج ہوتوآدھ گھنٹہ تکلیف اٹھانا بھی مشکل ہے ،حالانکہ وہ تو تمام عمر تکلیف میں رہتے ہیں ۔ایک زمانی کی سلطنت ان کو دے کر ان کو اپنے کام سے روکا جاوے تو کب کسی کی سنتے ہیں؟اس طرح خوا مصیبت کے پہاڑ ٹوٹ پڑیں ،وہ اپنے ارادہ کو نہیں چھوڑتے۔ کامل نمونہ اخلاق ہمارے ہادی کامل کو یہ دونوں باتیں دیکھنی پڑیں۔ ایک وقت تو طائف میں پتھر برسائے گئے ۔ایک کثیر جماعت نے سخت سے سخت جسمانی تکلیف دی ،لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے استقلال میں فرق نہ آیا۔ جب قوم نے دیکھا کہ مصائب وشدائد سے ان پر کوئی اثر نہ پڑا ،تو انہوں نے جمع ہو کر بادشاہت کا وعدہ دیا۔اپنا امیر بنانا چاہا ۔ہر ایک قسم کے سامان آسائش مہیا کرنے کا وعدہ کیا حتٰی کے عمدہ سے عمدہ بی بی بھی ۔بدیں شرط کہ حضرت بتوں کی مذمت چھوڑ دیں ۔لیکن جیسے کے طائف کی مصیبت کے وقت ویسی ہی اس وعدہ بادشاہت کے وقت حضرت نے کچھ پرواہ نہ کی اور پتھر کھانے کو ترجیح دی۔سو جب تک خاص لذت نہ ہو ،تو کیا ضرورت تھی کہ آرام کو چھوڑ کر دکھوں میں پڑتے۔ یہ موقع سوا ہمارے رسول علیہ الصلوۃ والتحیات کے کسی اور نبی کو نہ ملا کہ ان کو نبوت کا کام چھوڑنے کے لئے کوئی وعدہ دیا گیا ہو۔مسیح کو بھی یہ امر نصیب نہ ہوا ۔دنیا کی تاریخ میں صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ ہی یہ معاملہ ہوا کہ آپ کو سلطنت کا وعدہ دیا گیا اگر آپ اپنا کام چھوڑ دیں سو یہ عزت ہمارے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ ہی خاص ہے۔اسی طرح ہمارے ہادی کامل کو دونوں زمانے تکلیف اور فتح مندی کے نصیب ہوئے ،تاکہ وہ دونوں اوقات میں کامل نمونہ اخلاق کا دکھا سکیں ۔ اللہ تعالیٰ نے متقیوں کے لیے چاہا ہے کہ ہر دو لذتیں اٹھائیں۔بعض وقت لذات،آرام اور طیبات کے رنگ میں۔بعض وقت عسرت اور مصائب میں۔تاکہ ان کے دونوںاخلاق کامل نمونہ دکھا سکیں۔بعض اخلاق طاقت میں اور بعض مصائب میں کھلتے ہیں۔ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو یہ دونوں باتیںمیسر آئیں۔سو جس قدر ہم آپؑ کے اخلاق پیش کر سکیں گے۔ کوئی اور قوم اپنے کسی نبی کے اخلاق پیش نہ کر سکیں گے۔ جسے مسیحؑ کاصرف صبرظاہر ہو سکتا ہے کہ وہ مار