ْ خَیْرَاُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ(آل عمران:۱۱۱) کہا گیا اور رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمْ وَرَضُوْا عَنْہُ (البینۃ:۹) کی آوازاُن کو آگئی۔ آپؐ کی زندگی میں کوئی بھی منافق مدینہ طیبہ میں نہ رہا۔ غرض ایسی کامیابی آپؐ کو ہوئی کہ اس کی نظیر کسی دوسرے نبی کے واقعاتِ زندگی میں نہیں ملتی۔ اس سے اللہ تعالیٰ کی غرض یہ تھی کہ قیل و قار ہی تک بات نہ رکھنی چاہئے، کیونکہ اگر نِرے قیل و قال اور رَیا کاری تک ہی بات ہو تو دُوسرے لوگوں اور ہم میں پھر امتیاز کیا ہوگا اور دوسروں پر کیا شرف! تم صرف اپنا عملی نمونہ دکھائو اور اس میں ایک ایسی چمک ہوکر دُوسرے اس کو قبول کرلیں، کیونکہ جب تک اس مین چمک نہ ہوکوئی اس کو قبول نہیں کرتا۔ کای کوئی انسان میلی چیز پسند کرسکتا ہے؟ جب تک کپڑے میں ایک داغ بھی ہو، وہ اچھا نہیں لگتا۔ اسی طرح جبتک تمہاری اندرونی حالت میں صفائی اور چمک نہ ہوگی، کوئی خریدار نہیں ہوسکتا۔ ہر شخص عمدہ چیز کو پسند کرتا ہے اسی طرح جب تک تمہارے اخلاق اعلیٰ درجہ کے نہ ہوں، کسی مقام تک نہیں پہنچ سکوگے۔
انسانی پیدائش کی اصل غرض سورۃ عصر میں اللہ تعالیٰ نے کفارہ اور مومنوں کی زندگی کے نمونے بتائے ہیں کفار کی زندگی بالکل چوپائوں کی سی
زندگی ہوتی ہے۔ جن کو کھانے اور پینے اور شہوانی جذبات کے سوا اور کوئی کام نہیں ہوتا۔یَاْکُلُوْنَ کَمَا تَاْکُلُ الْاَنْعَامُ (محمد:۱۳) مگر دیکھو اگر ایک بیل چارہ تو کھالے ، لیکن ہل چلانے کے وقت بیٹھ جائے۔ اس کا نتیجہ کیا ہوگا؟ یہی ہوگا کہ زمیندار اسے بوچڑ خانے میں جاکر بیچ دے گا۔ اسی طرح ان لوگوں کی نسبت (جو خداتعالیٰ کے احکام کی پیروی یا پروا نہیں کرتے اور اپنی زندگی فسق وفجور میں گذارتے ہیں) فرماتا ہے۔ قُلْ مَایَعْبَؤُا بِکُمْ رَبِّیْ لَوْلَا دُعَآ ؤُ کُمْ۔(الفرقان:۷۸) یعنی میرا رب تمہاری کیا پروا کرتا ہے اگرتم اُس کی عبادت نہ کرو۔ یہ امر بحضور دل یادرکھنا چاہئے کہ خداتعالیٰ کی عبادت کے لئے محبت کی ضرورت ہے اور محبت دوقسم کی ہوتی ہے۔ ایک محبت تو ذاتی ہوتی ہے اور ایک اغراض سے وابستہ ہوتی ہے۔ یعنی اس کا باعثِ صرف چند عارضی باتیں ہوتی ہیں۔جن کے دُور ہوتے ہی وہ محبت سرد ہوکر رنج وغم کا باعث ہوجاتی ہے، مگر ذاتی محبت سچی راحت پیداکرتی ہے، چونکہ انسان فطرتاً خداہی کے لئے پیداہوا۔جیسا کہ فرمایا:مَاخَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ۔ (الذاریات:۵۷) اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس کی فطرت ہی میں اپنے لئے کچھ نہ کچھ رکھا ہواہے اور مخفی درمخفی اسباب سے اُسے اپنے لئے بنایا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خداتعالیٰ نے تمہاری پیدائش کی اصل غرض یہ رکھی ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو، مگر جو لوگ اپنی اس اصلی اور فطری غرض کو چھوڑ کر حیوانوں کی طرح زندگی کی غرض صرف کھانا پینا اور سورہنا سمجھتے ہیں۔ وہ خداتعالیٰ کے فضل سے دُورجاپڑتے ہیں اور خداتعالیٰ کی ذمہ داری اُن کے لئے نہیں رہتی۔ وہ زندگی جو ذمہ داری کی ہے۔ یہی ہے کہ مَاخَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ پرایمان لاکرزندگی کا