ہے؟ اسی لیے اللہ تعالیٰ باربارفرماتا ہے اَنَّ اللّٰہَ مَعَ الَّذِیْنَ اتَّقُوْ اوَالَّذِیْنَ ھُمْ مُحْسِنُوْنَ۔(النحل:۱۲۹)
متقی اور مُحسن مُتقی کے معنی ہیں ڈرنے والا۔ ایک ترکِ شرہوتا ہے اور ایک اِفاضۂ خیرمتقی ترک شر کا مفہوم اپنے اندررکھتا ہے اور محسن افاضۂ خیرکو چاہتا ہے۔مَیں نے
اس کے متعلق ایک حکایت پڑھی ہے کہ ایک بزرگ نے کسی کی دعوت کی اور اپنی طرف سے مہمان نوازی کا پورا اہتمام کیا اورحق ادا کیا۔ جب وہ کھانا کھاچکے، تو بزرگ نے بڑے انکسار سے کہا کہ مَیں آپ کے لائق خدمت نہیں کرسکا۔ مہمان نے کہا کہ آپ نے مجھے پر کوئی احسان نہیں کیا بلکہ مَیں نے احسان کیا ہے ، کیونکہ جس وقت تم مصروف تھے، میں تمہاری املاک کو آگ لگادیتا تو کیا ہوتا۔ غرض متقی کاکام یہ ہے کہ برائیوں سے بازآوے۔ اسے آگے دوسرا درجہ افاضۂ خیر کا ہے۔ جس کو یہاں محسنون کے لفظ سے ادا کیاگیا ہے کہ نیکیاں بھی کرے۔ پورا راستباز انسان تب ہوتاہے جب بدیوں سے پرہیز کرکے یہ مطالعہ کرے کہ نیکی کون سے کی ہے؟
کہتے ہیں کہ امام حسن رضی اللہ عنہ کے پاس ایک نوکرچاء کی پیالی لایا۔ جب قریب آیاتو غفلت سے وہ پیالی آپؓ کے سرپرگرپڑی۔ آپؓ نے تکلیف محسوس کرکے ذرا تیز نظر سے غلام کی طرف دیکھا۔ غلام نے آہستہ سے پڑھا۔ وَالْکَاظِمِیْنَ الْغَیْظَ(آل عمران:۱۳۵) یہ سُن کر امام حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا کظلمت غلام نے پھر کہا وَالْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ ۔ کظم میں انسان غصہ دبالیتا ہے اور اظہار نہیں کرتا ہے، مگر اندر سے پوری رضامندی نہیں ہوتی، اس لئے عفو کی شرط لگادی ہے۔ آپؓ نے کہا کہ مَیں نے عفوکای۔ پھر پڑھا واللّٰہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ۔ محبوب الہٰی وہی ہوتے ہیں جوکظم اور عفوکے بعد نیکی بھی کرتے ہیں۔آپؓ نے فرمایا: جاآزادبھی کیا۔ راستبازوں کے نمونے ایسے ہیں کہ چائے کی پیالی گراکرآزاد ہوا۔ اب بتائو کہ یہ نمونہ اصول کی عمدگی ہی سے پیداہوا۔
آنحضرت صلی اللہ وسلم کی قوتِ قُدسی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَاسْتَقِمْ کَمَآاُمِرْتَ (ھود:۱۱۳) یعنی سیدھا ہوجا۔کسی قسم کی بداعمالی
کی کجی نہ رہے۔ پھر راضی ہوں گا۔ آپ بھی سیدھا ہوجا اور دُوسروں کو بھی سیدھا کر۔ عرب کے لئے سیدھا کرنا کس قدر مشکل تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے پوچھنے پر فرمایا کہ مجھے سورۃ ھود نے بوڑھا کردیا۔ کیونکہ اس کے حکم کی رُو سے بڑی بھاری ذمہ داری میرے سُپردہوئی ہے۔ اپنے آپ کو سیدھاکرنا اور اللہ تعالیٰ کے احکام کی پوری فرمانبرداری کرنا، جہانتک انسان کی اپنی ذات سے تعلق رکھتی ہے، ممکن ہے کہ وُہ اس کو پورا کرے۔ لیکن دوسروں کو ویس اہی بنانا آسان نہیں ہے۔ اس سے ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بلند شان اورقوت قدسی کا پتہ لگتا ہے؛ چنانچہ آپؐ نے اس حکم کی کیسی تعمیل کی۔ صحابہ کرام ؓ کی وہ پاک جماعت تیار کی کہ اُن کو کُنْتُم