پہلوبدل لے۔موت کا اعتبار نہیں ہے۔ سعدیؒ کاشعر سچا ہے۔
مکُن تکیہ برعمرِ ناپائیدار مباش ایمن ازبازیٔ روزگار
عُمرِناپائیدارربھروسہ کرنادانشمندکاکام نہیں ہے۔ موت یونہی آکرلتاڑجاتی ہے اور انسان کو پتہ بھی نہیں لگتا جب کہ انسان اس طرح پر موت کے پنجہ میں گرفتا ر ہے۔ پھر اُس کی زندگی کا خداتعالیٰ کے سوا کون ذمہ دارہوسکتا ہے۔
خداکے لیے زندگی اگر زندگی خداکے لئے ہوتو اس کی حفاظت کرے گا۔ بخاری میں ایک حدیث ہے کہ جو شخص خداتعالیٰ سے محبت کارابطہ پیداکرلیتا
ہے، خداتعالیٰ آپس کے اعضاء ہوجاتا ہے۔ ایک دوسری روایت میں ہے کہ اُس کی دوستی یہانتک ہوتی ہے کہ میں اس کے ہاتھ پائوں وغیرہ حتی کہ کہ اُس کی زبان ہوجاتا ہوں جس سے وہ بولتا ہے۔اصل بات یہ ہے کہ جب انسان جذبات ِ نفس سے پاک ہوجاتا ہے اور نفسانیت چھوڑ کر خدا کے ارادوں کے اندر چلتا ہے۔ اس کا کوئی فعل ناجائزنہیں ہوتابلکہ ہر ایک فعل خدا کے منشاء کے موافق ہوتا ہے۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ خداتعالیٰ اُسے اپنا فعل ہی قرار دیتا ہے۔ یہ ایک مقام ہے قربِ الہٰی کا جہاں پہنچ کر سلوک کی منزلوں کو پورے طورپرطے نہ کرنے والوں نے یا توٹھوکرکھائی ہے یا الہیات سے ناواقف اورقربِ الہٰی کے مفہوم کو نہ سمجھنے والوں نے غلط فہمی سے کام لیا ہے اور وحدتِ وجود کا مسئلہ گھڑلیا ہے۔ اس بات کو بھی ہرگز بھولنا نہ چاہئے کہ جہاں انسان ابتلامیں پڑتا ہے وہ فعل خداکے ارادہ سے موافق نہیں ہوتا۔ خداتعالیٰ کی رضاء اُس کے خلاف ہوتی ہے۔ ایسا شخص اپنے جذبات کے نیچے ہوتا ہے نہ کہ منشائے الہٰی کے ماتحت ، لیکن وُہ انسان جو اللہ تعالیٰ کا ولی کہلاتا ہے اور خدا جس کی زندگی کا ذمہ دارہوتاہے۔ وہ ہوتا ہے جس کی کوئی حرکت و سکون بلااستصواب کتابِ الہٰی نہیںہوتی۔ وُہ اپنی ہر بات اور ارادہ پر کتاب اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے اور سے مشورہ لیتا ہے۔
پھر آگے کہا ہے کہ اُس کی جان نکالنے میں اللہ تعالیٰ کی بڑا تردد ہوتاہے۔اللہ تعالیٰ تردّدسے پاک ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ایک مصلحت کے لیے اُس کو موت دی جاتی ہے اور ایک عظیم مصلحت کے لئے اس کودوسرے جہان میں لے جایاجاتا ہے۔ نہیں تواُس کی بقاخداکو بڑی پیاری لگتی ہے۔ پس اگر انسنا کی ایسی زندگی نہیں کہ خداتعالیٰ کو اُس کی جان لینے میں تردّد ہوتو وہ حیوانات سے بھی بدتر ہے۔ ایک بکری سے بتہ سے آدمی گزارہ کر سکتے ہیں اور اس کا چمڑہ بھی کام آسکتا ہے۔ اور انسان کسی حالت میں کیا مَرکر بھی کام نہیں آتا، مگر صالح آدمی کا اثر اس کی ذرّیت پر بھی پڑتاہے اور وہ بھی اس سے فائدہ اُٹھاتی ہ۔ اصل یہ ہے کہ درحقیقت وہ مرتا ہی نہیں مرنے پر بھی اس کو ایک نئی زندگی دی جاتی ہے۔ حضرت دائود علیہ السلام نے کہا ہے کہ مَیں بچہ تھا، بوڑھا ہوا۔ مَیں نے کسی خداپرست کو ذلیل حالت میں نہیں دیکھا اور نہ اُس کے لڑکوں کو دیکھا کہ