اب اس کا اثر تم خودسوچ لوگے، کیا پڑے گا۔یہی کہ انسان اعمال کی ضرورت محسوس کرے گا اور نیک عمل کرنے کی سعی کرے گا۔ برخلافِ اس کے جب یہ کہا جاوے گا کہ انسان اعمال سے نجات نہیں پاسکتا۔ تویہ اُصول انسان کی ہمت اور سعی کو پست کردیگا اور اس کو بالکل مایوس اور بے دست و پابنادے گا۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ کفارہ کا اُصول انسانی قویٰ کی بھی بیحرمتی کرتا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انسانی قویٰ میں ایک ترقی کا مادہ رکھا ہے ، لیکن کفارہ اس کوترقی سے روکتا ہے، ابھی مَیں نے کہا ہے کہ کفارہ کا اعتقاد رکھنے والوں کے حالاتِ آزادی اور بے قیدی کو جو دیکھتے ہیں تو یہ اسی اصول کی وجہ سے ہے کہ کتے اور کتیوں کی طرح بدکاریاں ہوتی ہیں۔ لنڈن کے ہائیڈ پارک میں علانیہ بدکاریاں ہوتی ہیں اور ّ*** بچے پیداہوتے ہیں۔ پس ہم کو صرف قیل وقال تک ہی محدودنہ رکھناچاہئے۔بلکہ اعمال ساتھ ہو نے چاہیں۔ جو اعمال کی ضرورت نہیں سمجھتا وہ سخت ناعاقبت اندیش اور نادان ہے۔ قانونِ قدرت میں اعمال او ران کے نتائج کی نظریں تو موجود ہیں۔کفارہ کی نظیر کوئی موجود نہیں۔ مثلاً بھوک لگتی ہے، تو کھانا کھالینے کے بعد وہ فرد ہوجاتی ہے یا پیاس لگتی ہے، پانی سے جاتی رہتی ہے تو معلوم ہوا کہ کھاناکھانے یا پانی پینے کا نتیجہ بھوک کا جاتے رہنا یا پیاس کا بُجھ جانا ہوا۔ مگر یہ تو نہیں ہوتا کہ بُھوک لگے زیدؔ کو اور بکر ؔ روٹی کھائے اور زیدؔ کی بُھوک جاتی رہے۔ اگر قانونِ قدرت میں اس کی کوئی نظیرموجود ہوتی، تو شایدکفارہ کا مسئلہ مان لینے کی گنجائش نکل آتی، لیکن جب قانونِ قدرت میں اس کی کوئی نظیر ہی نہیں تو انسان جو نظیردیکھ کر ماننے کا عادی ہے۔ اسے کیونکر تسلیم کرسکتا ہے ۔ عام قانونِ انسانی میں بھی تو اس کی نظیر ہیں ملتی ہے ۔ کبھی نہیں دیکھاگیا کہ زید ؔ نے خون کیاہو اور خالدؔ کو پھانسی ملی ہو۔غرض یہ ایک ایسا اُصول ہے جس کی کوئی نظیرہرگز موجود نہیں۔
اعمال صالحہ اورتقویٰ مَیں اپنی جماعت کو مخاطب کرکے کہتاہوں کہ ضرورت ہے اعمالِ صالحہ کی۔ خداتعالیٰ کے حضوراگرکوئی چیزجاسکتی ہے، تو وہ یہی
اعمالِ صالحہ ہیں۔ اِلَیْہِ یَصْعَدُالْکَلِمُ الطَّیِّبُ(سورہ فاطر:۱۱) خودخداتعالیٰ فرماتا ہے۔ اس وقت ہمارے قلم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلواروں کے برابر ہیں، لیکن فتح اور نُصرت اسی کو ملتی ہے جو متقی ہو خداتعالیٰ نے یہ وعدہ فرمادیا ہے۔کَانَ حَقًّاعَلَیْنَا نَصْرُالْمُؤْمِنِیْنَ (الروم:۴۸) مومنوں کی نصرت ہمارے ذمہ ہے۔ اور لَنْ یَّجْعَلَ اللّٰہُ لَلْکَافِرِیْنَ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ سَبِیْلاً (النساء:۱۴۲) اللہ مومنوں پرکافروں کوراہ نہیں دیتا، اس لئے یادرکھوکہ تمہاری فتح تقویٰ سے ہے؛ ورنہ عرب تو نرے لکچراراور خطیب اور شاعرہی تھے۔انہوں نے تقویٰ اختیار کیا۔ خداتعالیٰ نے اپنے فرشتے ان کی امداد کے لے نازل کیے۔ تاریخ کو اگر انسان پڑھے تو اُسے نظر آجائے گا کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیم اجمعین نے جس قدرفتوحات کیں وہ انسان طاقت اور سعی کا نتیجہ نہیں ہوسکتا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ تک بیس سال کے اندر ہی اندر اسلامی سلطنت عالمگیرہوگئی۔ اب ہم کو کوئی بتاوے کہ انسان ایسا کرسکتا