بداعمالیاں سب کو معلوم ہیں۔ شراب جواُم الخبائث ہے۔ اس کی یورپ میں اس قدر کثرت ہے کہ اُس کی نظیر کسی دوسرے ملک میں نہیں ملتی۔مَیں نے کسی اخبار میں پڑھا تھا کہ اگر لندن کی شراب کی دوکانوں کو ایک لائن میں رکھا جائے تو پچھتر میل تک چلی جاویں۔ جس حالت میں اُن کو یہ تعلیم دی گئی ہے کہ ہر ایک گناہ کی معافی کاسرٹیفکیٹ دیا گیا ہے اور جس قدرگناہ کوئی کرے معاف ہیں تو اب سوچ کر عیسائی ہم کو جواب دیں کہ اس کا اثر کیاپڑے گا۔ اگرنعوذباللہ ہمارا یہ اصول ہوتا، توہم پر اس کا کتنا بُرا اثرپڑتا۔ نفسِ امأرہ توبہانہ ہی تلاش کرتا ہے جیسے شیعوں نے امام حسین رضی اللہ عنھاکا سہارالیلیا اور تقیہ کی آڑ میں جو کچھ کرلیں، سو تھوڑا ہے۔ مَیں اسی تقیہ اور امام حسینؓ کے فدیہ کے اصول کی بناپردلیری سے کہتاہوں کہ شیعوں میں مُتقی کم نکلیں گے۔ خلیفہ محمدحسین صاحب نے لکھاہے کہ فَدَیْنٰہُ بِذِبْحٍ عَظِیْمٍ(الصافات:۱۰۸) سے جوقرآن میں آیا ہے۔ امام حسینؓ کا شہیدہونا نکلتاہے اور اس نکتہ پر بہت خوش ہوئے ہیں کہ گویا قرآن شریف کے مغز کو پہنچ گئے ہیں۔ اُن کی اس نکتہ دانی پر مجھے ایک پوستی کی حکایت یادآئی۔وُہ یہ ہے کہ ایک پوستی کے پاس ایک لوٹا تھا اور اُس میں ایک سوراخ تھا۔ جب رفع حاجت کو جاتا۔ اس سے پیشتر کہ وہ فارغ ہوکر طہارت کرے۔ سارا پانی لوٹے سے نکل جاتا تھا۔آخرکئی دن کی سوچ اورفکرکے بعداس نے یہ تجویز نکالی کہ پہلے طہارت ہی کرلیا کریں اور اپنی اس تجویز پر بہت ہی کوش ہوا۔ اسی قسم کا نکتہ اور نسخہ ان کو ملاہے۔ جو فَدَیْنٰہُ بِذِبْحٍ عَظِیْمٍ (الصافات:۱۰۸)سے امام حسین ؓ کی شہادت نکالتے ہیں۔ شیعہ لوگوں کو مسجدیں تک تو صاف نہیں رہ سکتی ہیں۔ ہم ایک شیعہ اُستاد سے پڑھاکرتے تھے اور وہاں کتے پیشاب وپاخانہ پھرجاتے تھے اور مجھے یادنہیں کہ کسی نے کبھی وہاں نماز پڑھی ہو۔ شیعہ یہی کہتے ہیں کہ ہمارے لئے امام حسینؓ اور اہل بیت شہید ہوچکے ہیں۔ اُن کے غم میں رولینا اور ماتم کرلینا بس یہی کافی ہے۔ جنت کے لئے اور کسی عمل کی بجز اس کے ضرورت نہیں اور ایسا ہی عیسائی کہتے ہیں کہ مسیح کاخون ہمارے لئے مُنجی ہوا۔اب ہم پوچھتے ہیں کہ اگر تمہارے گناہوں پر بھی بازپُرس ہونی ے اور تمہیں ان کی سزابھگتنی ہے، تو پھر یہ نجات کیسی ہے؟ اس اُصول کا اثر درحقیقت بہت بُراپڑا۔اگر یہ اصول نہ ہوتا ، تو یورپ کے ملکوں میں اس کثرت سے فسق وفجورنہ ہوتااور اس طرح بدکاری کا سیلاب نہ آتا جیسے اب آیاہوا ہے۔ لندن او رپیرس کے ہوٹلوں اور پارکوں میں جاکردیکھوکیا ہورہاہے اور ان لوگوں سے پوچھوجووہاں سے آتے ہیں آئے دن اخبارات میں ان بچوں کی فہرستیں جن کی ولادت ناجائزولادت ہوتی ہے، شائع ہوتی ہیں۔ کفّارہ قانونِ قدرت کے خلاف ہے اب ہم تو اُصول ہی کو دیکھیں گے۔ ہمارے اصول میں تو یہ لکھا ہے کہ مَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالُ ذَرَّۃٍ خَیْرًایَرَہُ(الزلزال:۸)