تواللہ تعالیٰ کے مواخذہ کاخوفرہ کیونکر سکتاہے؟ کیا سچ نہیں ہے کہ ہمارے گناہوں کے بدلے مسیح پر سب کچھ وارد ہوگیا۔ یہانتک کہ اُسے ملعُون قراردیا اور تین دن ھاویہ میں رکھا۔ ایسی حالت میں اگر گناہوں کے بدلے سزاہوتو پھر کفارہ کاکیا فائدہ ہوا؟ اُصول، کفارہ ہی چاہتا ہے کہ گناہ کیا جائے۔ یہ قاعدہ کی بت ہے کہ اُصول کا اثر بہت پڑتا ہے۔ دیکھو! ہندوئوں کے نزدیک گائے بہت پوتراور قابلِ تعظیم ہے اور اُس کا اثران میں اس حدتک ہے کہ اُس کا پیشاب اورگوبر بھی پوترکرنے والا اُن میں قراردیاگیا ہے اور گائے کے متعلق اس قدر جوش ان میں ہے ، جس کی کچھ بھی حد نہیں۔یہی وجہ ہے کہ یہ امر اُن میں بطور اُصول داخل کیاگیا ہے۔ یادرکھو۔اصول بطور ماں کے ہوتے ہیں او راعمال بطور اولاد کے۔ جب مسیح کفارہ ہوگیا ہے اور اس نے تمام گناہ ایمان لانے والے کے اُٹھالئے۔پھر کیا وجہ ہے کہ گناہ نہ کیے جاویں؟ تعجب کی بات ہے کہ عیسائی جب کفارہ کا اُصول بیان کرتے ہیں۔ تو اپنی تقریر کو خداتعالیٰ کے رحم اورعدل سے شروع کیا کرتے ہیں، مگر مَیں پوچھتاہوں کہ جب زیدؔ کے بدلے پھانسی بکر ؔ کو ملی تو یہ کونسا انصاف اور رحم ہے۔ جب یہ اصول قراردیدیا کہ سب گناہ اُس نے اُٹھالئے، پھر گناہ نہ کرنے کے لئے کونسا امر مانع ہو سکتا ہے۔ اگر یہ ہدایت ہوتی کہ اُس وقت کے گناہ گار عیسائیوں کے لئے کفارہ ہوئے ہیں، تو یہ اور بات تھی، مگر جب یہ مان لیا گیا ہے کہ قیامت تک پیدا ہونے والوں کے گناہوں کے گٹھڑی یسوع اُٹھا کرلے گیا اور اس نے سزا بھی اُٹھالی۔ پھر گنہگارکو پکڑناکس قدرظلم ہے۔ اول تو بیگناہ کو گنہگارکے بدلے سزادینا ہی ظلم ہے اور پھر دُوسرا ظلم یہ ہے کہ اول گنہگاروں کے گناہوں کی گٹھڑی یسوع کے سر پر رکھ دی اور گنہگار کو مُژدہ سنادیاکہ تمہارے گناہ اُس نے اُٹھالیے اور پھر وہ گناہ کریں، توپکڑے جاویں۔یہ عجیب دھوکا ہے جس کا جواب عیسائی کبھی نہیں دے سکیں گے۔ کفّارہ پر ایمان لانے سے انسان گناہ پر دلیر ہوجاتا ہے اگرکوئی یہ کہے کہ کفارہ پر ایمان لانے سے انسان گناہ کی زندگی سے نجات پاسکتا ہے اور گناہ کی قوت اس میں نہیں رہتی، تو یہ ایک ایسی بات ہے جس کا کوئی ثبوت نہیں ہے، اس لئے کہ یہ اُصول ہی اپنی جڑھ میں گناہ رکھتا ہے۔گناہ سے بچنے کی قوت پیداہوتی ہے۔ مؤاخذۂ الہٰی کے خوف سے لیکن وہ مواخذہ کا خوف کیونکر ہوسکتاہے جب کہ یہ مان لیا جاوے کہ ہمارے گناہ یسوع نے اُٹھالئے۔ اس سے ہم یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ ایسے اُصول کا انسان کبھی متقی نہیں ہوسکتا، کیونکہ وہ ہر ایک کام کو جس کی بِنا تقویٰ کے اُصولوں پرہو، ضروری نہ سمجھے گا۔یہ خوب یارکھوکہ پاک باطنی ہمیشہ اُصولوں ہی سے شروع ہوتی ہے؛ ورنہ خُبثِ نفس نہ گردوبسالہامعلوم پھرہم یہ دیکھتے ہیں کہ کفّارہ کا مسئلہ ماننے والوں نے پاک باطنی کی عملی نظیریں کیا قائم کی ہیں؟ یورپ کی