مقابلہ میں کیاہے۔اُن کے مقابلہ میں ہیچ ہے۔ اُن کے اتفاق اور طاقت اور دولت کے سامنے نام بھی نہیں رکھتے، لیکن ہم اصحاب الفیل کا واقعہ سامنے دیکھتے ہیں کہ کیسی تسلی کی آیات نازل فرمائی ہیں۔ مجھے یہی الہام ہوا ہے جس سے صاف صاف پایا جاتا ہے کہ خداتعالیی کی نصرت اور تائید اپنا کام کرکے رہے گی۔ ہاں پر وُہی یقین رکھتے ہیں، جن کو قرآن سے محبت ہے۔ جسے قرآن سے محبت نہیں، اسلام سے الفت نہیں وہ ان باتوں کی کب پرواکرسکتا ہے۔ اسلام اور ایمان یہی ہے کہ خدا کی رائے سے رائے ملائے۔ جو اسلام کی عزت اور اس کے لئے غیرت نہیں رکھتا، خواہ وہ کوئی ہو، خدا کو اُس کی عزت اور اُس کی غیرت کی پروا نہیں ہوتی اور وہ دیندار مسلمان نہیں۔ خداکی باتوں کو حقیر مت سمجھو اور ان لوگوں کو قابلِ رحم سمجھوجنھوں نے تعصب کی وجہ سے حق کا انکار کردیا اور کہدیا کہ امن کے زمانہ میں کسی کے آنے کی ضرورت ہے۔ افسوس اُن پر۔ وہ نہیں دیکھتے کہ اسلام کس طرح دشمنوں کے نرغہ میں پھنساہوا ہے۔ چاروں طرف سے اُس پر حملہ پرحملہ ہورہا ہے۔ رسول کریم ؐ کی توہین کی جاتی ہے۔پھر بھی کہتے ہیں کہ کسی کی ضرورت نہیں۔
قانون سڈیشن سے اسلام ہی فائدہ اُٹھاسکتا ہے قانون سڈیشن ہمارے لئے بہت مفیدہے۔صرف ہم ہی
فائدہ اُٹھاسکتے ہیں۔دوسرے مذہبوں کو ہلاک کرنے لئے یہ بھی ایک ذریعہ ہوگا۔ کیونکہ ہمارے پاس تو حقائق اور معارف کے خزانے ہیں۔ ہم ان کا ایک ایساسلسلہ جاری رکھیں گے جو کبھی ختم نہ ہوگا، مگرآریہ یا پادری کون سے معارف پیش کریں گے۔ پادریوں نے گذشتہ پچاس سال کے اندر کیا دکھایا ہے۔ کیا گالیوں کے سوا وہ اور کچھ پیش کرسکتے ہیں کہ اگر کسی آریہ یا پادری کو اپنے مذہب کے کمالات اور خوبیاں بیان کرنے کو بلایاجائے، تو وہ ہمارے مقابلہ میں ایک ساعت بھی نہ ٹھہرسکے۔
۱۹؍جنوری۱۸۹۸ء
کَفّارَہ مذہب کی اوّل اینٹ خداشناسی ہے۔ جب تک وُہ دُرست نہ ہو، دُوسرے اعمال کیونکر پاک ہوسکتے ہیں؟ عیسائی دوسروں کی پاک باطنی پر بڑے
اعتراض کیا کرتے ہیں۔ اورکفارہ کا اخلاق سوزمسئلہ مان کراعتراض کرتے ہیں۔ میری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ جب کفارہ کا عقیدہ ہو