مگر اگر کسی کا یہ ارادہ ہو کہ بلا استصوب کتاب اللہ اس کا حرکت و سکون نہ ہو گا اور اپنی ہر ایک پر کتاب اللہ کی طرف رجوع کرے گا ۔تویقینی امرہے کہ کتاب اللہ مشورہ دے گی۔جیسے فرمایا وَلَا رَطْبٍ وَّلَا یَا بِسٍ اِلَّا فِیْ کِتَابٍ مُّبِیْنٍ(الانعام۶۰) سو اگر ہم یہ ارادہ کریں کہ ہم مشورہ کتاب اللہ سے لیں گے، توہم کو ضرور مشورہ ملے گا، لیکن جو اپنے جذبات کا تابع ہے وہ ضرور نقصان ہی میں پڑے گا۔بسااوقات وہ اس جگہ مواخذہ میں پڑیگا۔ سو اس کے مقابل اللہ نے فرمایا کہ ولی جو میرے ساتھ بولتے چلتے کام کرتے ہیں۔وہ گویا اس میں محو ہیں۔سو جس قدر کوئی محویت میں کم ہے، وہ اتنا ہی خدا سے دور ہے ،لیکن اگر اس کی محویت ویسی ہی ہے جیسے خدا نے فرمایا تو اس کے ایمان کا اندازہ نہیں ۔ان کی حمایت میں اللہ تعالیٰ فرماتاہے:مَنْ عَادَ لِیْ وَلِیًّا فَقَدْ اٰذَنْتَہ‘ بِالْحَذْبِ(الحدیث)جو شخص میرے ولی کا مقابلی کرتا ہے ۔اب دیکھ لو کہ متقی کی شان کس قدر بلند ہے اور اس کا پایہ کس قدر عالی ہے۔جس کا قرب خدا کی جناب میں ایسا ہے کہ اس کا ستایا جانا خدا کا ستایا جانا ہے تو خدا تعالیٰ اس کا کس قدر معاون ومدد گار ہو گا۔ متقی کے پاس جو آجاتا ہے وہ بھی بچایا جاتاہے لوگ بہت سے مصائب میں گرفتار ہوتے ہیں ،لیکن متقی بچائے جاتے ہیں ،بلکہ ان کے پاس جو آجاتا ہے وہ بھی بچایا جاتا ہے۔مصائب کی کوئی حد نہیں۔انسان کا پنا اندر اس قدر مصائب سے بھرا ہوا ہے کہ اس کا کوئی اندازہ نہیں۔امراض کو ہی دیکھ لیا جاوے کہ ہزار ہا مصائب کے پیدا کرنے کافی ہیں،لیکن جو تقویٰ کے قلعے میں ہوتا ہے وہ ان سے محفوظ ہے اور جو اس سے باہر ہے وہ ایک جنگل میں ہے جو درندہ جانوروں سے بھرا ہوا ہے۔ متقی کو اس دنیا میں بشارتیں ملتی ہیں متقی کے لئے ایک اور بھی وعدہ ہے۔لَھُمُ الْبُشْرٰی فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَفِی الْاٰخِرَۃِ (یونس:۶۵)یعنی جو متقی ہوتے ہیں۔ان کو اسی دنیا میں بشارتیں سچے خوابوں کے ذریعے ملتی ہیں ،بلکہ اس سے بھی بڑھ کر وہ صاحب مکاشفات ہو جاتے ہیں ۔ مکالمۃ اللہ کا شرف حاصل کرتے ہیں۔ وہ بشریت کے لباس میں ہی ملائکہ کو دیکھ لیتے ہیں ۔جیسے کہ فرمایا:اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَااللّٰہُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَیْھِمُ الْمَلَائِکَۃُ (حٰم السجدہ:۳۱)یعنی جو لوگ کہتے ہیں کہ ہمارا رب اللہ ہے اور استقامت دکھاتے ہیں ،یعنی ابتلا کے وقت ایسا شخص دکھلا دیتا ہے کہ جو میں نے منہ سے وعدہ کیا تھا ،وہ عملی طور سے پورا کرتا ہوں۔ ابتلا ضروری ہے ابتلا ضروری ہے۔جیسے یہ آیت اشارہ کرتی ہے۔اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یَتْرَکُوْٓ اَنْ یَّقُوْلُوْٓ اٰمَنَّا وَھُمْ لَا یُفْتَنُوْنَ(العنکبوت:۳)اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جنھوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے اور استقامت کی ،ان پر فرشتے اترتے ہیں۔ مفسروں کی غلطی ہے کہ فرشتوں کا اترنا نزع میں ہے ۔یہ غلط ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ دل کو صاف کرتے ہیں اور نجاست اور گندی سے ،جو اللہ سے دور رکھتی ہے،اپنے نفس کو دور رکھتے ہیں۔ان میں سلسلہ الہام کے لئے ایک مناسبت پیدا ہو جاتی ہے۔سلسلہ الہام شروع ہو جاتا ہے پھر متقی کی شان میں ایک اور