غیراللہ کی طرف رجوع پھریہ بات یادرکھنے کے قابل ہے کہ یہ نماز جواپنے اصلی معنوں میں نماز ہے، دُعا سے حاصل ہوتی ہے۔ غیراللہ سے سوال کرنا مومنانہ غیرت کے صریح اور سخت مخالف ہے، کیونکہ یہ مرتبہ دُعا کا اللہ ہی کے لئے ہے۔ جب تک انسان پورے طور پر خفیف ہوکر اللہ تعالیٰ ہی سے سوال نہ کرے اور اُسی سے نہ مانگے۔ سچ سمجھو کہ وہ حقیقی طور پر سچامسلمان اور سچا مومن کہلانے کا مستحق نہیں۔ اسلام کی حقیقت ہی ہے کہ اس کی تمام طاقتیں اندرونی ہوں یا بیرونی، سب کی سب اللہ تعالیٰ ہی کے آستانہ پر گری ہوئی ہوں۔ جس طرح پرایک بڑاانجن بہت سے کلوں کو چلاتا ہے۔ پاس اسی طورپر جب تک انسان اپنے ہر کام اور ہر حرکت وسکون کو اُس انجن کی طاقتِ عظمیٰ کے ماتحت نہ کرلیوے وہ کیونکر اللہ تعالیٰ کی الوہیت کا قائل ہوسکتا ہے اور اپنے آپ کو اِنِّیْ وَجَھْتُ وَجْھِیَ لَلَّذِیْ فَطَرَالسَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ (الانعام:۸۰) کہتے وقت واقعی حنیف کہہ سکتا ہے؟ جیسے مُنہ سے کہتا ہے ، ویسے ہی ادھر کی طرف متوجہ ہوتو لاریب وہ مسلم ہے۔ وہ مومن اور حنیف ہے لیکن جو شخص اللہتعالیٰ کے سوا غیر اللہ سے سوال کرتا ہے اور ادھربھی جھکتا ہے ، وہ یادرکھے کہ بڑا ہی بدقسمت اور محروم ہے کہ اُس پر وُہ وقت آجانے والا ہے کہ وہ زبانی اور نمائشی طورپراللہ تعالیٰ کی طرف نہ جھُک سکے۔ ترکِ نماز کی عادت اور کسل کی ایک وجہ یہ بھی ہے کیونکہ جب انسان غیر اللہ کی طرف جُھکتا ہے ، تو رُوح اور دل کی طاقتیں اس درخت کی طرح (جس کی شاخیں ابتداء ً ایک طرف کردی جاویں اور اُس طرف جھک کر پرورش پالیں) ادھر ہی جھکتا ہے اور خداتعالیٰ کی طرف سے ایک سختی اور تشدد اس کے دل میں پیدا ہوکراُسے منجمد اور پتھر بنادیتا ہے۔ جیسے وہ شاخیں۔پھردوسری طرف مڑنہیں سکتا۔ اسی طرح پر وہ دل اور روح دن بدن خداتعالیٰ سے دُورہوتی جاتی ہے۔ پس یہ بڑی خطرناک لوردل کو کپکپادینے والی بات ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر دُوسرے سے سوال کرے۔اسی لئے نماز کا التزام اور پابندی بڑی ضروری چیز ہے، تاکہ اولاً وہ ایک عادتِ راسخہ کی طرح قائم ہو اور رجوع الی اللہ کا خیال ہو۔ پھر رفتہ رفتہ وہ وقت خودآجاتا ہے جب کہ انقطاعِ کلی کی حالت میں انسان ایک نور اور ایک لذت کا وارث ہوجاتا ہے۔ مَیں اس امر کو پھرتاکید سے کہتا ہوں افسوس ہے کہ مجھے وُہ لفظ نہیں ملے، جس میں غیر اللہ کی طرف رجوع کرنے کی برائیاں بیان کرسکوں۔ لوگوں کے پاس جاکر منّت خوشامد کرتے ہیں۔ یہ بات خداتعالیٰ کی غیرت کو جوش میں لاتی ہے۔ کیونکہ یہ تو لوگوں کی نماز ہے پس وہ اس سے ہٹتا اور اُسے دُورپھینک دیتاہے ۔ میں موٹے الفاظ میں اس کو بیان کرتا ہوں گو یہ امر اس طرح پر نہیں ہے۔ مگر سمجھ میں خوب آسکتا ہے کہ جیسے ایک مرد ِ غیورّ کی غیرت تقاضا نہیں کرتی کہ وُہ اپنی بیوی کو کسی غیر کے ساتھ تعلق پیداکرتے ہوئے دیکھ سکے اور جس طرح پر وہ مرد ایسی حالت میں اس نابکارعورت کو واجب القتل سمجھتا