باطنی طریق کا ایک عکس ہے) صرف نقال کی طرح نقلیں اتاری جاویں اور اسے ایک بارِگراں سمجھ کراُتارپھینکنے کی کوشش کی جاوے۔ تو تم ہی بتائو۔ اس میں کیا لذت اور حظ آسکتا ہے؟ اور جبتک لذت اور سُرور نہ آئے۔ اُس کی حقیقت کیونکرمتحقق ہوگی اور یہ اُس وقت ہوگا جب کہ روح بھی ہمہ نیستی اور تذللل تام ہوکر آستانہ الوُہیت پر گرے اور جو زبان بولتی ہے ، رُوح بھی بولے۔ اُس وقت ایک سُرور اور نور اور تسکین حاصل ہوجاتی ہے۔ مَیں اس کو اور کھول کر لکھنا چاہتا ہوں کہ انسان جس قدرمراتب طے کرکے انسان ہوتا ہے۔ یعنی کہاں نطفہ۔ بلکہ اس سے بھی پہلے نطفہ کے اجزاء یعنی مختلف قسم کی اغذیہ اور اُن کی ساخت اور بناوٹ۔ پھر نُطفہ کے بعد مختلف مدارج کے بعد بچہ ۔ پھر جوان ، بُوڑھا۔ غرض ان تمام عالموں میں جو اُس پر مختلف اوقات میں گزرے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کا معرف ہو اور وہ نقشہ ہر آن اس کے ذہن میں کھنچا رہے۔ تو بھی وُہ اس قابل ہوسکتا ہے کہ ربوبیت کے مدِمقابل میں اپنی عبودیت کو ڈال دے۔ غرض مدعایہ ہے کہ نماز میں لذت اور سُرور بھی عبادیت اور ربوبیت کے ایک تعلق سے پیداہوتا ہے۔ جب تک اپنے آپ کو عدمِ محض یا مشابہ بالعدم قراردے کر جو ربوبیت کا ذاتی تقاضہ ہے نہ ڈال دے۔ اُس کافیضان اور پَر تو اس پر نہیں پڑتا اور اگر ایسا ہوتو پھر اعلیٰ درجہ کی لذت حاصل ہوتی ہے۔ جس سے بڑھ کر کوئی حظ نہیں ہے۔
سچی نماز اس مقام پر انسان کی روح جب ہمہ نیستی ہوجاتی ہے تو وہ خدا کی طرف ایک چشمہ کی طرح بہتی ہے اور ماسویٰ اللہ سے اُسے انقطاعِ تام ہوجاتا ہے۔
اُس وقت خداتعالیٰ کی محبت اُس پر گرتی ہے۔ اس اتصال کے وقت ان دوجوشوں سے، جو اُوپر کی طرف سے ربوبیت کا جوش اورنیچے کی طرف عبودیت کا جوش ہوتا ہے۔ ایک خاص کیفیت پیداہوتی ہے۔ اس کا نام صلوٰۃ ہے۔ پس یہی وہ صلوٰۃ ہے جو سیئات کو بھسم کرجاتی ہے اور اپنی جگہ ایک نور اور چمک چھوڑ دیتی ہے۔ جو سالک کو راستہ کے خطرات اور مشکلات کے وقت ایک منور شمع کا کام دیتی ہے اور ہرقسم کے خس و خاشاک اور ٹھوکر کے پتھروں اور خاروخس سے جو اس کی راہ میں ہوتی ہیں، آگاہ کرکے بچاتی ہے اور یہی وُہ حالت ہے جب کہ اِنَّ الصّٰلٰوۃَ تَنْھیٰ عَنِ الْفَحْشَآئِ وَالْمُنْکَر(العنکبوت:۴۶) کا اطلاق اس پر ہوتا ہے۔ کیونکر اس کے ہاتھ میں نہیں اُس کے دل میں ایک روشن چراغ رکھا ہواہوتا ہے اور یہ درجہ کامل تذلل ، کامل نیستی اور فروتنی اور پوری اطاعت سے حاصل ہوتا ہے۔ پھر گناہ کاخیال اُسے کیونکر آسکتا ہے اور انکار اس میں پیدا ہی نہیں ہوسکتا۔ فحشاء کی طرف اس کی نظر اُٹھ ہی نہیں سکتی۔ غرض ایک ایسی لذت ، ایسا سُرور حاصل ہوتا ہے کہ مَیں نہیں سمجھ سکتا کہ اُسے کیونکر بیان کروں۔