بلکہ بسااوقات ایسی وارداتیں ہوجاتی ہیں۔ ایسا ہی جوش اور غیرت الوہیت کا ہے۔ عبودیت اور دُعا خاص اسی ذات کے مدِ مقابل ہیں۔ وہ پسند نہیں کرسکتا کہ کسی اور کو معبود قرار دیا جاوے یا پکاراجاوے۔ پس خوب یادرکھو! اور پھر یادرکھو! کہ غیر اللہ کی طرف جھُکنا خداسے کاٹنا ہے۔ نماز اورتوحید کچھ ہی کہو، کیونکہ توحید کے عملی اقرار کا نام ہی نماز ہے۔ اس وقت بے برکت اور بیسود ہوتی ہے جب اُس میں نیستی اورتذلل کی رُوح اور حنیف دل نہ ہو۔ رعایتِ اسباب دُعا کا شعبہ ہے سُنو! وہ دُعاجس کے لئے اُدْعُوْنِٓیْ اَسْتَجِبْ لَکُمْ(المومن:۶۱) فرمایا ہے۔ اس کے لئے یہی سچی رُوح مطلوب ہے۔ اگر اس تضرع اور خشوع میں حقیقت کی رُوح نہیں، تو وہ ٹیں ٹیں سے کم نہیں ہے۔ پھر کوئی کہہ سکتا ہے کہ اسباب کی رعایت ضروری نہیں ہے۔ یہ ایک غلط فہمی ہے۔ شریعت نے اسباب کو منع نہیں کیا ہے اورسچ پوچھوتو کیا دُعااسباب نہیں؟ یااسباب دُعا نہیں؟ تلاشِ اسباب بجائے خود ایک دُعا ہے اور دعا بجائے خود عظیم الشان اسباب کا چشمہ ہے۔ انسان کی ظاہری بناوٹ ، اس کے دو ہاتھ دوپائوں کی ساخت ایک دوسرے کی امداد کا ایک قدرتی راہنماہے۔ جب یہ نظارہ خود انسان میں موجود ہے۔ پھر کس قدر حیرت اور تعجب کی بات ہے کہ وہ تَعَاوَنُوْ اعَلَی الْبِرِّوَ التَّقْویٰ(المائدہ:۳) کے معنے سمجھنے میں مشکلات کو دیکھے۔ ہاں! مَیں کہتا ہوں کہ تلاشِ اسباب بھی بذریعہ دُعا کرو۔ میں نہیں سمجھتا کہ جب میں تمہیں تہمارے جسم کے اندر اللہ تعالیٰ کا ایک قائم کردہ سلسلہ امدادِ باہمی اور کامل رہنماسلسلہ دکھاتا ہوں۔ تم اس سے نکارکرو۔ اللہ تعالیٰ نے اسباب کو اور بھی صاف کرنے اور وضاحت سے دُنیا پر کھول دینے کے لئے انبیاء علیم السلام کا ایک سلسلہ دنیا میں قائم کیا۔ اللہ تعالیٰ اس بات پر قادر تھا اور قادرہے کہ اگر وہ چاہے تو کسی قسم کی امداد کی ضرورت ان رسولوں کو باقی نہ رہنے دے۔ مگر پھر بھی ایک وقت اُن پرآتا ہے کہ وہ مَنْ اَنْصَارِیْٓ اِلَی اللّٰہِ (الصف:۱۵) کہنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ کیا وہ ایک ٹکڑ گدافقیر کی طرح صدادیتے ہیں مَنْ اَنْصَارِیْٓ اِلَی اللّٰہکہنے کی بھی ایک شان ہوتی ہے۔ وہ دنیا کو رعایت اسباب سکھانا چاہتے ہیں۔ جودعا کا ایک شعبہ ہے؛ ورنہ اللہ تعالیٰ پر اُن کو کامل ایمان اور اس کے وعدوں پر پورا یقین ہوتا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ کہ اِنَّا لَنَنْصُرُرُسُلُنَا وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْافِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا (المومن:۵۲) ایک یقینی اور حتمی وعدہ ہے۔ مَیںکہتا ہوں کہ بھلا اگر خدا کسی کے دل میں مددکا خیال نہ ڈالے، تو کوئی کیونکرمددکرسکتا ہے۔ مامورمن اللہ کی طلب امدادکاسر اصل بات یہی ہے کہ حقیقی مُعاون و ناصر وہی پاک ذات ہے، جس کی شان نعیم المولیٰ ونعم النصیر ونعم الوکیل ہے۔ دُنیا اور دُنیا کی مددیں اُن لوگوں کے سامنے کَالْمَیّت ہوتی ہیں۔ وہ مردہ کیڑے کے برابر بھی حقیقت