کوکھوکرپڑھنی پڑتی ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ اسے بیزاری ہے، وہ اس کو سمجھ نہیں سکتا۔ اس لذت اور راحت سے جو نماز میں ہے اس کو اطلاع نہیں ہے پھر نماز میں لذت کیونکر حاصل ہو۔ مَیں دیکھتا ہوں کہ ایک شرابی اور نشہ باز انسان کو جب سُرور نہیں آتا، تو وہ پَے درپے پیالے پیتا جاتا ہے، یہانتک کہ اُس کو ایک قسم کا نشہ آجاتا ہے۔ دانشمند اوربزرگ انسان اس سے فائدہ اُٹھاسکتا ہے اور وہ یہ کہ نماز پر دوام کرے اور پڑھتا جاوے۔یہانتک کہ اُس کو سرور آجاوے اور جیسے شرابی کے ذہن میں ایک لذت ہوتی ہے، جس کا حاصل کرنا اس کا مقصود بالذات ہوتا ہے۔ اسی طرح سے ذہن میں ساری طاقتوں کا رُجحان نماز میںاُسی سُرور کا حاصل کرنا ہو اور پھرایک خلوص اور جوش کے ساتھ کم از کم اس نشہ باز کے اضطراب اور قلق وکرب کی مانند ہی ایک دُعا پیدا ہوکہ وہ لذت حاصل ہوتومَیں کہتا ہوں اور سچ کہتا ہوں کہ یقینا یقینا وہ لذت حاصل ہوجاوے گی۔ پھرنماز پڑھتے وقت اُن مفادکاحاصل کرنا بھی ملحوظ ہوجو اس سے ہوتے ہیں اور احسان پیشِ نظر رہے۔ اِنَّ الحَسَنٰتِ یُذْھِبْنَ السَّیِّاٰتِ (ھود:۱۱۵) نیکیاں بدیوں کو زائل کردیت ہیں۔ پس ان حسنات کو اور لذات کو دل میں رکھ کر دُعا کرے کہ وہ نماز جو کہ صدیقوں اور محسنوں کی ہے ، وہ نصیب کرے۔ یہ جو فرمایا ہے اِنَّ الحَسَنٰتِ یُذْھِبْنَ السَّیِّاٰتِ(ھود:۱۱۵) یعنی نیکیاں یا نماز بدیوں کو دُور کرتی ہے یا دوسرے مقام پر فرمایا ہے۔ نماز فواحش اور برائیوں سے بچاتی ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ بعض لوگ باوجود نماز پڑھنے کے پھر بدیاں کرتے ہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ وہ نمازیں پڑھتے ہیں، مگر نہ روح اور راستی کے ساتھ۔ وُہ صرف رسم اور عادت کے طور پر ٹکریں مارتے ہیں۔ اُن کی رُوح مُردہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا نام حسنات نہیں رکھا اور یہاں جو حسنات کا لفظ رکھا الصلوٰۃ کا لفظ نہیں رکھا۔ باوجودیکہ معنے وہی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تا نماز کی خوبی اور حسن وجمال کی طرف اشارہ کرے کہ وہ نمازبدیوں کو دُورکرتی ہے۔نماز نشست و برخاست کا نام نہیں ہے۔ نماز کا مغز اوررُوح وہ دُعا ہے جو ایک لذت اور سُرور اپنے اندررکھتی ہے۔ ارکان نماز کی حقیقت ارکانِ نماز دراصل روحانی نشست وبرخاست ہیں۔ انسان کو خداتعالیٰ کے رُوبرو کھڑا ہونا پڑتا ہے اور قیام بھی آداب خدمت گاران میں سے ہے۔ رکوع جو دوسرا حصہ ہے بتلاتا ہے کہ گویا تیاری ہے کہ وہ تعمیل حکم کو کس قدر گردن جھکاتا ہے اور سجدہ کمالِ آداب اور کمالِ تذلل اور نیستی کو جو عبادت کا مقصود ہے ظاہر کرتا ہے۔ یہ آداب اور طُرق ہیں جو خداتعالیٰ نے طور یادداشت کے مقرر کردیئے ہیں اورجسم کو باطنی طریق سے حصہ دینے کی خاطر ان کو مقررکیا ہے۔ علاوہ ازیں باطنی طریق کے اثبات کی خاطر ایک ظاہری طریق بھی رکھ دیا ہے۔ اب اگر ظاہری طریق میں(جو اندرونی اور